غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجّال ہے پاک کو ناپاک سمجھے ہوگئے مردار خوار گو وہ کافر کہہ کے ہم سے دُور تر ہیں جاپڑے اُن کے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار ہم نے یہ مانا کہ اُن کے دل ہیں پتھر ہوگئے پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا امید آیتِ لَا تَیْءَسُوْا رکھتی ہے دل کو استوار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش ربِّ ذُوالمِنَن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار جن میں آیا ہے مسیح وقت وہ منکر ہوئے مرگئے تھے اس تمنا میں خواصِ ہر دیار مَیں نہیں کہتا کہ میری جاں ہے سب سے پاک تر میں نہیں کہتا کہ یہ میرے عمل کے ہیں ثمار میں نہیں رکھتا تھا اس دعوے سے اِک ذرّہ خبر کھول کر دیکھو براہیں کو کہ تا ہو اعتبار گرکہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش وہ خدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار مجھؔ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پروا نہیں ہوسکے تو خود بنو مہدی بحکمِ کِردگار افترا *** ہے اور ہر مفتری ملعون ہے پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار تشنہ بیٹھے ہو کنارِ جوئے شیریں حیف ہے سر زمینِ ہند میں چلتی ہے نہرِ خوشگوار ان نشا*نوں کو ذرہ سوچو کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار مفت میں ملزم خداکے مت بنو اے منکرو یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔ زمین نے بھی میرے لئے نشان دکھلائے اور آسمان نے بھی۔اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں۔ اور ان نشانوں کو اگر تفصیلاً جُدا جُدا شمار کیا جائے تو قریباً وہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِک۔ منہ