اُس کے آتے آتے دیں کا ہوگیا قصّہ تمام کیا وہ تب آئے گا جب دیکھے گا اِس دیں کا مزار کشتی ءِ اسلام بے لطفِ خدا اب غرق ہے اے جنوں کچھ کام کر بیکار ہیں عقلوں کے وار مجھ کو دے اک فوق عادت اے خدا جوش و تپش جس سے ہوجاؤں میں غم میں دیں کے اِک دیوانہ وار وہ لگادے آگ میرے دل میں ملّت کے لئے شعلے پہنچیں جس کے ہردم آسماں تک بیشمار اےؔ خدا تیرے لئے ہر ذرّہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلادے بہارِ دیں کہ مَیں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہوگئے اب بیقرار اِک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اس کے ظنِّ غالب کو ہیں کرتے اختیار پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجالِ کار زار باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہمِ عیسیٰ نے دی تھی محض عیسیٰ کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو وہ روزنِ دیوار سے لیک جب در کھل گئے پھر ہوگئے شپّر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب مَیں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار پر ہوئے دیں کے لئے یہ لوگ مارِ آستیں دشمنوں کو خوش کیا اور ہوگیا آزردہ یار یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ تک حضرت آدمؑ سے اسی قدر مدت بحساب قمری گذری تھی جو اِس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے رو سے حضرت آدمؑ سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جو سورۃوالعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیے۔ اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گزر گیا۔ منہ