ہائے یہ کیا ہوگیا عقلوں پہ کیا پتھر پڑے ہوگیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار یا ؔ کسی مخفی گناہ سے شامتِ اعمال ہے جس سے عقلیں ہوگئیں بیکار اور ۔اک مُردہ وار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گناہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غبار ایسے کچھ سوئے کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے کہ پھر نسیاں ہوا گردن کا ہار نوعِ انساں میں بدی کا تخم بونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہو اُس کا کاشتکار چھوڑ کر فرقاں کو آثارِ مخالف پر جمے سر پہ مسلم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار جبکہ ہے امکان کذب و کجروی اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہی پر انحصار جبکہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جب کہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار پھر یقیں کو چھوڑ کر ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو رویت ہے بہتر یا نقولِ پُر غبار تفرقہ اسلام میں نقلوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہوگیا خدمت گذار صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہوگئے شیطاں کے چیلے گردنِ دیں پر سوار موتِ عیسیٰ کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیثِ مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار گر گُماں صحت کا ہو پھر قابلِ تاویل ہیں کیاحدیثوں کے لئے فرقاں پہ کرسکتے ہو وار وہ خدا جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا اب بھی وہ تائید فرقاں کر رہا ہے بار بار سر کو پیٹو! آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمرِ دنیا سے بھی اب ہے آگیا ہفتم* ہزار کتب سابقہ اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے اِسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ33 ۱؂۔ یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر