جب کہ کہتے ہیں کہ کاذب پھولتے پھلتے نہیں پھر مجھے کہتے ہیں کاذب دیکھ کر میرے ثمار کیا ؔ تمہاری آنکھ سب کچھ دیکھ کر اندھی ہوئی کچھ تو اُس دن سے ڈرو یارو کہ ہے روزِ شمار آنکھ رکھتے ہو ذرہ سوچو کہ یہ کیا راز ہے کس طرح ممکن کہ وہ قدّوس ہو کاذب کا یار یہ کرم مجھ پر ہے کیوں کوئی تو اس میں بات ہے بے سبب ہرگز نہیں یہ کاروبارِ کِردگار مجھ کو خود اُس نے دیا ہے چشمہِ ء توحید پاک تا لگاوے از سرِ نو باغِ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر تو یہ چادر اُتار خیرگی سے بدگمانی اس قدر اچھی نہیں اِن دنوں میں جب کہ ہے شورِ قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف مَیں عافیت کا ہوں حصار پشتی ءِ دیوارِ دیں اور مامنِ اسلام ہوں نارسا ہے دستِ دشمن تا بفرقِ ایں جدار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بُرے آئے ہیں دن یا پڑ گئی *** کی مار کچھ تو سمجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں عجب اُن کو کیا اپنا شکار اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہوگئی اے ہوشیار میں اگر کاذب ہوں کذّابوں کی دیکھوں گا سزا پر اگر صادق ہوں پھر کیا عذر ہے روزِ شمار اس تعصب پر نظر کرنا کہ مَیں اسلام پر ہوں فدا۔ پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر باربار مَیں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار ہائے وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی ساربانِ نفس دوں نے کس طرف پھیری مہار کام جو دکھلائے اُس خلّاق نے میرے لئے کیا وہ کرسکتا ہے جو ہو مفتری شیطاں کا یار میں نے روتے روتے دامن کر دیا تر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی باحالِ زار