روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار وہ ؔ خدا جس نے نبی کو تھا زرِ خالص دیا زیورِ دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ سُنار وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں اکراہ وجبر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثلِ بُتِ سیمیں عذار پس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اٹھا وے دیں کی راہ سے جو اُٹھا تھا اِک غبار تا دکھاوے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ معنی ءِ رازِ نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اِک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیاجائے عار روشنی میں مہرِ تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگبار اے مرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مشکِ تتار نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامانِ دمار جس نے نفسِ دُوں کو ہمت کرکے زیرِ پاکیا چیز کیا ہیں اُس کے آگے رستم و اسفندیار گالیاں سن کر دُعا دو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہرگھڑی چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں ستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کردیں حالِ زار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدتِ گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال اللہ اکبر کس قدر ہے نابکار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیں سے فرار پاک دل پر بدگمانی۔ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار