افترا کی ایسی دُم لمبی نہیں ہوتی کبھی
جو ہو مثلِ مدتِ فخر الرسل فخر الخیار
حسرؔ توں سے میرا دل پُر ہے کہ کیوں منکر ہو تم
یہ گھٹا اب جھوم جھوم آتی ہے دل پر بار بار
یہ عجب آنکھیں ہیں سورج بھی نظر آتا نہیں
کچھ نہیں چھوڑا حسد نے عقل اور سوچ اور بچار
قوم کی بدقسمتی اِس سرکشی سے کھل گئی
پر وہی ہوتا ہے جو تقدیر سے پایا قرار
قوم میں ایسے بھی پاتا ہوں جو ہیں دُنیا کے کرم
مقصد اُن کی زیست کا ہے شہوت و خمر و قمار
مکر کے بل چل رہی ہے اُن کی گاڑی روز و شب
نفس و شیطاں نے اُٹھایا ہے انہیں جیسے کہار
دیں کے کاموں میں تو اُن کے لڑکھڑاتے ہیں قدم
لیک دُنیا کے لئے ہیں نوجوان و ہوشیار
حلّتُ و حُرمت کی کچھ پروا نہیں باقی رہی
ٹھونس کر مُردار پیٹوں میں نہیں لیتے ڈکار
لافِ زہد و راستی اور پاپ دل میں ہے بھرا
ہے زباں میں سب شرف اور نیچ دل جیسے چمار
اے عزیزو کب تلک چل سکتی ہے کاغذ کی ناؤ
ایک دن ہے غرق ہونا باد و چشمِ اشکبار
جاودانی زندگی ہے موت کے اندر نہاں
گلشنِ دلبرکی راہ ہے وادی ءِ غربت کے خار
اے خدا کمزور ہیں ہم اپنے ہاتھوں سے اُٹھا
ناتواں ہم ہیں ہمارا خود اُٹھالے سارا بار
تیری عظمت کے کرشمے دیکھتا ہوں ہر گھڑی
تیری قدرت دیکھ کر دیکھا جہاں کو مُردہ وار
کام دکھلائے جو تو نے میری نصرت کے لئے
پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے ہر زماں وہ کاروبار
کس طرح تو نے سچائی کو مری ثابت کیا
میں ترے قرباں مری جاں تیرے کاموں پر نثار
ہے عجب اک خاصیت تیرے جمال و حسن میں
جس نے اک چمکار سے مجھ کو کیا دیوانہ وار
اے مرے پیارے ضلالت میں پڑی ہے میری قوم
تیری قدرت سے نہیں کچھ دُور گر پائیں سُدھار
مجھ کو کافر کہتے ہیں میں بھی انہیں مومن کہوں
گر نہ ہو پرہیز کرنا جھوٹ سے دیں کا شعار
مجھ پہ اے واعظ نظر کی یار نے تجھ پر نہ کی
حیف اُس ایماں پہ جس سے کفر بہتر لاکھ بار