جن کو ہے انکارِ اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ
آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں ہے حُمقِ حمار
کیاؔ یہی اسلام کا ہے دوسرے دینوں پہ فخر
کردیا قصّوں پہ سارا ختم دیں کا کاروبار
مغزِ فرقانِ مطہرّ کیا یہی ہے زُہد خشک
کیا یہی چوہا ہے نکلا کھود کر یہ کوہسار
گریہی اسلام ہے بس ہو گئی اُمّت ہلاک
کس طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہوتاریک و تار
منہ کو اپنے کیوں بگاڑا نااُمیدوں کی طرح
فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو پسار
کس طرح کے تم بشر ہو دیکھتے ہو صد نشاں
پھر وہی ضدّ و تعصّب اور وہی کین و نقار
بات سب پوری ہوئی پر تم وہی ناقص رہے
باغ میں ہوکر بھی قسمت میں نہیں دیں کے ثمار
دیکھ لو وہ ساری باتیں کیسی پوری ہوگئیں
جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم و افتکار
اُس زمانہ میں ذرہ سوچو کہ میں کیاچیز تھا
جس زمانہ میں براہیں کا دیا تھا اشتہار
پھر ذرہ سوچو کہ اب چرچا مرا کیسا ہوا
کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی درہر دیار
جانتا تھا کون کیا عزت تھی پبلک میں مجھے
کس جماعت کی تھی مجھ سے کچھ ارادت یا پیار
تھے رجوعِ خلق کے اسباب مال و علم و حکم
خاندانِ فقر بھی تھا باعثِ عزّ و وقار
لیک ان چاروں سے میں محروم تھا اور بے نصیب
ایک انساں تھا کہ خارج از حساب و از شمار
پھر رکھایا نام کافر ہوگیا مطعونِ خلق
کُفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار
اس پہ بھی میرے خدا نے یاد کرکے اپنا قول
مرجع عالم بنایا مجھ کو اور دین کا مدار
سارے منصوبے جو تھے میری تباہی کے لئے
کر دیئے اُس نے تبہ جیسے کہ ہو گرد و غبار
سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے
کوئی بتلائے نظیر اس کی اگر کرنا ہے وار
مکر انساں کو مٹا دیتا ہے انسانِ دِگر
پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار
مفتری ہوتا ہے آخر اس جہاں میں رُوسیہ
جلد تر ہوتا ہے برہم افترا کا کاروبار