بے خبر دونوں ہیں جو کہتے ہیں بد یا نیک مرد میرے باطن کی نہیں ان کو خبر اک ذرّہ وار ابنؔ مریم ہوں مگر اُترا نہیں مَیں چَرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار ملک سے مجھ کو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نَے دیار تاج و تختِ ہند قَیصر کو مبارک ہو مدام اُن کی شاہی میں مَیں پاتا ہوں رفاہِ روزگار مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جُدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیاکریں آسماں کے رہنے والوں کو زمیں سے کیا نِقار ملکِ روحانی کی شاہی کی نہیں کوئی نظیر گو بہت دنیا میں گذرے ہیں امیر و تاجدار داغِ *** ہے طلب کرنا زمیں کا عزّوجاہ جس کا جی چاہے کرے اس داغ سے وہ تن فگار کام کیاعزت سے ہم کو شہرتوں سے کیاغرض گر وہ ذلّت سے ہو راضی اس پہ سو عزّت نثار ہم اُسی کے ہوگئے ہیں جو ہمارا ہوگیا چھوڑ کر دنیاءِ دوں کو ہم نے پایا وہ نگار دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرشِ ربّ العالمیں قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اُترا مجھ میں یار دوستی بھی ہے عجب جس سے ہوں آخر د۲و سَتِی آملی اُلفت سے اُلفت ہوکے دو دل پر سوار دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار کوئی رہ نزدیک تر راہِ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشتِ خار اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا زر بے شمار تیر تاثیرِ محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو! نہ ہونا سست اس میں زینہار ہے یہی اک آگ تا تم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار اِس سے خود آکر ملے گا تم سے وہ یارِ ازل اس سے تم عرفانِ حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار وہ کتابِ پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار