دیں کو دے کر ہاتھ سے دنیا بھی آخر جاتی ہے
کوئی آسودہ نہیں بن عاشق و شیدائے یار
رنگؔ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر
ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار
سو چڑھے سورج نہیں بن رُوئے دلبر روشنی
یہ جہاں بے وصلِ دلبر ہے شب تاریک و تار
اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر
جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار
اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کاکام
نقد پالیتے ہیں وہ اور دوسرے امیدوار
کون ہے جس کے عمل ہوں پاک بے انوارِ عشق
کون کرتا ہے وفا بن اس کے جس کا دِل فگار
غیر ہوکر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض
کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار
کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل و شرب
کون لے خارِ مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار
عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پُر خطر
عشق ہے جو سرجھکاوے زیرِ تیغِ آب دار
پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں جھک گئے
وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہ ءِ ناپائدار
جس کو دیکھو آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے
آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار
ممبروں پر اُن کے سارا گالیوں کا وعظ ہے
مجلسوں میں اُن کی ہردم سبّ و غیبت کاروبار
جس طرف دیکھو یہی دُنیا ہی مقصد ہوگئی
ہر طرف اس کے لئے رغبت دلائیں بار بار
ایک کانٹا بھی اگر دیں کے لئے اُن کو لگے
چیخ کر اس سے وہ بھاگیں شیر سے جیسے حمار
ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں
دیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار
لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں
میں فدائے یار ہوں گو تیغ کھینچے صد ہزار
اے مرے پیارے بتا تو کس طرح خوشنود ہو
نیک دن ہوگا وہی جب تجھ پہ ہوویں ہم نثار
جس طرح تو دور ہے لوگوں سے میں بھی دور ہوں
ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا راز دار
نیک ظن کرنا طریقِ صالحانِ قوم ہے
لیک سو پردے میں ہوں اُن سے۔ نہیں ہوں آشکار