توہی بگڑی کو بناوے توڑدے جب بن چکا
تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سو کرے کوئی بچار
جبؔ کوئی دل ظلمت عصیاں میں ہووے مبتلا
تیرے بن روشن نہ ہووے گو چڑھے سورج ہزار
اس جہاں میں خواہشِ آزادگی بے سود ہے
اِک تری قیدِ محبت ہے جو کردے رستگار
دل جو خالی ہو گدازِ عشق سے وہ دل ہے کیا
دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلبرِ یکتا قرار
فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفیِ وجود
پس کرو اس نفس کو زیرو زبر از بہرِ یار
تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ ناتمام
اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پیار
تیرے مُنہ کی بھوک نے دل کو کیا زیروزبر
اے مرے فردوسِ اعلیٰ اب گِرا مجھ پر ثمار
اے خدا اے چارہ سازِ درد ہم کو خود بچا
اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دلفگار
باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل
ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار
تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے
ایسے جینے سے تو بہتر مرکے ہو جانا غبار
گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت ہیچ ہے
فضل پر تیرے ہے سب جہدوعمل کا انحصار
جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں
رہ میں حق کی قوتیں اُن کی چلیں بن کر قطار
چھٹ گئے شیطاں سے جوتھے تیری اُلفت کے اسیر
جو ہوئے تیرے لئے بے برگ وبَر۔پائی بہار
سب پیاسوں سے نکوتر تیرے منہ کی ہے پیاس
جس کا دل اس سے ہے بریاں پاگیا وہ آبشار
جس کو تیری دھن لگی آخر وہ تجھ کو جاملا
جس کو بے چینی ہے یہ وہ پاگیا آخر قرار
عاشقی کی ہے علامت گریہ و دامانِ دشت
کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار
تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب
شرط رہ پر صبر ہے اور ترکِ نامِ اضطرار
میں تو تیرے حکم سے آیا مگر افسوس ہے
چل رہی ہے وہ ہوا جو رخنہ اندازِ بہار
جیفۂ دنیا پہ یکسر گِر گئے دنیا کے لوگ
زندگی کیاخاک اُن کی جوکہ ہیں مُردار خوار