کون تھا جس کی تمنّا یہ نہ تھی اک جوش سے
کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنے والے سے پیار
پھرؔ وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی
سب سے اوّل ہوگئے منکر یہی دیں کے منار
پھر دوبارہ آگئی احبار میں رسمِ یہود
پھر مسیحِ وقت کے دشمن ہوئے یہ جُبّہ دار
تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا
پھر مٹے کیونکر کہ ہے تقدیر نَے نقشِ جدار
میں تو آیا اس جہاں میں ابنِ مریم کی طرح
میں نہیں مامور از بہرِ جہاد و کارزار
پر اگر آتا کوئی جیسی انہیں امید تھی
اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بے شمار
ایسے مہدی کے لئے میداں کھلا تھا قوم میں
پھر تو اس پر جمع ہوتے ایک دم میں صد ہزار
پر یہ تھا رحم خداوندی کہ مَیں ظاہر ہوا
آگ آتی گرنہ میں آتا تو پھر جاتا قرار
آگ بھی پھر آگئی جب دیکھ کر اتنے نشاں
قوم نے مجھ کو کہا کذّاب ہے اور بدشعار
ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں
ہاں مگر توبہ کریں با صد نیاز و انکسار
یہ نہیں اِک اتفاقی امر تا ہوتا علاج
ہے خدا کے حکم سے یہ سب تباہی اور تبار
وہ خدا جس نے بنایا آدمی اور دیں دیا
وہ نہیں راضی کہ بے دینی ہو ان کا کاروبار
بے خدا بے زہد و تقویٰ بے دیانت بے صفا
بَنْ ہے یہ دنیائے دوں طاعوں کرے اُس میں شکار
صیدِ طاعوں مت بنو پورے بنو تم متقی
یہ جو ایماں ہے زباں کا۔کچھ نہیں آتا بکار
موت سے گر خود ہو بے ڈر کچھ کر و بچوں پہ رحم
امن کی رہ پر چلو بَنْ کو کرو مت اختیار
بَنْ کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روبہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
ان دلوں کو خود بدل دے اے مرے قادر خدا
تُو تو ربّ العالمیں ہے اور سب کا شہریار
تیرے آگے محو یا اثبات نا ممکن نہیں
جوڑنا یا توڑنا یہ کام تیرے اختیار
ٹوٹے کاموں کو بناوے جب نگاہِ فضل ہو
پھر بناکر توڑ دے اک دم میں کردے تارتار