پیٹناؔ ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مرگئے
جب کہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار
ہے یہ گھر گرنے پہ اے مغرور لے جلدی خبر
تانہ دب جائیں ترے اہل و عیال و رشتہ دار
یہ عجب بدقسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی
پر اُترتا ہی نہیں ہے جامِ غفلت کا خُمار
ہوش میں آتے نہیں سو سو طرح کوشش ہوئی
ایسے کچھ سوئے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار
دن بُرے آئے اکٹھے ہوگئے قحط و وبا
اب تلک توبہ نہیں اب دیکھئے انجام کار
ہے غضب کہتے ہیں اب وحیِ خدا مفقود ہے
اب قیامت تک ہے اِس اُمت کا قصوں پر مدار
یہ عقیدہ برخلافِ گفتۂِ دادار ہے
پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار
وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم
اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار
گوہرِ وحیِ خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر
اِک یہی دیں کے لئے ہے جائے عزّ و افتخار
یہ وہ گُل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں
یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مشکِ تتار
یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے درکھلیں
یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار
بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے
بس یہی اِک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار
ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں
محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار
ہے یہی وحیِ خدا عرفانِ مولیٰ کا نشاں
جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار
واہ رے باغِ محبت موت جس کی رہ گذر
وصلِ یار اُس کا ثمر۔ پر ارد گرد اُس کے ہیں خار
ایسے دل پر داغِ *** ہے ازل سے تا ابد
جو نہیں اس کی طلب میں بیخود و دیوانہ وار
پر جو دنیا کے بنے کیڑے وہ کیا ڈھونڈیں اُسے
دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کیلئے ہو بیقرار
ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج
جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار
یاد وہ دن جب کہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں
مہدئ موعودِ حق اب جلد ہوگا آشکار