بحثؔ کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں
رُوحِ انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار
کیامجھے تم چھوڑتے ہو جاہِ دنیا کے لئے
جاہِ دنیا کب تلک دُنیا ہے خود ناپائیدار
کون درپردہ مجھے دیتا ہے ہر میدان میں فتح
کون ہے جو تم کو ہر دم کررہا ہے شرمسار
تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا جلد
یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اِک اَدنیٰ شکار
بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے مری تائید کی
خائب و خاسر رہے تم۔ ہوگیا مَیں کامگار
اِک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا
قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیرِ غار
کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد
لیکن اب دیکھو کہ چرچا کس قدر ہے ہر کنار
اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر
جوکہ اب پوری ہوئی بعد از مرورِ روزگار
کھول کر دیکھو براہیں جوکہ ہے میری کتاب
اُس میں ہے یہ پیشگوئی پڑھ لو اُس کو ایک بار
اب ذرہ سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے
اِس قدر امر نہاں پر کس بشر کو اقتدار
قدرتِ رحمان و مکرِ آدمی میں فرق ہے
جو نہ سمجھے وہ غبی از فرق تا پا ہے حمار
سوچ لو اے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے
راہِ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو امیدوار
سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا
کس کے فرماں سے میں مقصد پاگیا اور تم ہو خوار
یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی
جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذلّت کی مار
غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجّال ہے
میں توخود رکھتاہوں اُن کے دیں سے اور ایماں سے عار
گریہی دیں ہے جو ہے اُن کی خصائل سے عیاں
مَیں تو اِک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار
جان و دل سے ہم نثارِ ملّتِ اسلام ہیں
لیک دیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہلِ نقار
واہ رے جوشِ جہالت خوب دکھلائے ہیں رنگ
جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار
نازمت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں
اس کو ہیرامت گماں کر ہے یہ سنگِ کوہسار