میرؔ ی نسبت جو کہیں کِیں سے وہ سب پر آتا ہے
چھوڑ دیں گے کیا وہ سب کو کفر کرکے اختیار
مجھ کو کافر کہہ کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مہر
یہ تو ہے سب شکل اُن کی ہم تو ہیں آئینہ وار
ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی
سال ہے اب تیسواں دعوے پہ از روئے شمار
تھا برس چالیس کا مَیں اس مسافر خانہ میں
جبکہ میں نے وحیِ ربّانی سے پایا افتخار
اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی
پھر عجب تر یہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بحار
ہر قدم میں میرے مولیٰ نے دیئے مجھ کو نشاں
ہر عدو پر حجتِ حق کی پڑی ہے ذوالفقار
نعمتیں وہ دیں مرے مولیٰ نے اپنے فضل سے
جن سے ہیں معنی ءِ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ آشکار
سایہ بھی ہو جائے ہے اوقاتِ ظلمت میں جدا
پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار
اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی
گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دو چار
پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر
اُس مہمین سے ڈرو جو بادشاہ ہر دو دار
یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو
کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار
نَعْرۂِ اِنَّا ظَلَمْنَا سنتِ ابرار ہے
زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہو نسلِ مار
جسم کو مَل مَل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں
دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزدِ کردگار
اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھاکردیکھنا
مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہلِ نار
گرحیا ہو سوچ کر دیکھیں کہ یہ کیا راز ہے
وہ مری ذلّت کو چاہیں پا رہا ہوں مَیں وقار
کیا بگاڑا اپنے مکروں سے ہمارا آج تک
اژدہا بن بن کے آئے ہوگئے پھر سُوسَمار
اے فقیہو عالمو مجھ کو سمجھ آتا نہیں
یہ نشانِ صدق پاکر پھر یہ کیں اور یہ نقار
صدق کو جب پایا اصحابِ رسول اللہ نے
اُس پہ مال و جان و تن بڑھ بڑھ کے کرتے تھے نثار
پھر عجب یہ علم۔ یہ تنقیدِ آثار و حدیث
دیکھ کر سَوسَو نشاں پھر کررہے ہو تم فرار