پھرؔ لگایا ناخنوں تک زور بن کر اک گروہ
پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ اُن کو ساز وار
ہم نگہ میں اُن کی دجّال اور بے ایماں ہوئے
آتشِ تکفیر کے اُڑتے رہے پیہم شرار
اب ذرہ سوچو دیانت سے کہ یہ کیا بات ہے
ہاتھ کس کا ہے کہ ردّ کرتا ہے وہ دشمن کا وار
کیوں نہیں تم سوچتے کیسے ہیں یہ پردے پڑے
دل میں اُٹھتا ہے مرے رہ رہ کے اب سَوسَو بخار
یہ اگر انساں کا ہوتا کاروبار اے ناقصاں
ایسے کاذب کے لئے کافی تھا وہ پروردگار
کچھ نہ تھی حاجت تمہاری نے تمہارے مکر کی
خود مجھے نابود کرتا وہ جہاں کا شہریار
پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر
ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر سچے ہوویں شرمسار
اس قدر نصرت کہاں ہوتی ہے اک کذّاب کی
کیا تمہیں کچھ ڈر نہیں ہے کرتے ہو بڑھ بڑھ کے وار
ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر
میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار
آفتابِ صُبْح نکلا اب بھی سوتے ہیں یہ لوگ
دن سے ہیں بیزار اور راتوں سے وہ کرتے ہیں پیار
روشنی سے بغض اور ظلمت پہ وہ قربان ہیں
ایسے بھی شپر نہ ہوں گے گرچہ تم ڈھونڈو ہزار
سر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند
مرتے ہیں بن آب وہ اور درپہ نہرِ خوشگوار
طرفہ کیفیت ہے اُن لوگوں کی جو منکرہوئے
یوں تو ہر دم مشغلہ ہے گالیاں لیل و نہار
پر اگر پوچھیں کہ ایسے کاذبوں کے نام لو
جن کی نصرت سالہا سے کررہا ہو کردگار
مردہ ہو جاتے ہیں اس کا کچھ نہیں دیتے جواب
زرد ہو جاتا ہے منہ جیسے کوئی ہو سوگوار
اُن کی قسمت میں نہیں دیں کے لئے کوئی گھڑی
ہوگئے مفتونِ دنیا دیکھ کر اُس کا سنگار
جی چُرانا راستی سے کیا یہ دیں کا کام ہے
کیا یہی ہے زہد و تقویٰ کیا یہی راہ خیار
کیا قسم کھائی ہے یا کچھ پیچ قسمت میں پڑا
روزِ روشن چھوڑ کر ہیں عاشقِ شب ہائے تار
انبیاء کے طور پر حجت ہوئی اُن پر تمام
اُن کے جو حملے ہیں اُن میں سب نبی ہیں حصہ دار