غیرؔ کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بیشمار اِک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار دشمنوں! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار کیا کروں تعریف حُسنِ یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیلِ نفسِ دوں سے پار اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی کہ ہے وہ دور تر از صحنِ یار اُس رُخِ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اس دلبر کے مجھ پر آشکار قوم کے لوگو! اِدھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادئ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن ہوئے پھر بھی اس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار کیا اچنبھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا جو چاہیئے تھا مومنوں کا دوستدار اہلِ تقویٰ تھا کرم دیں بھی تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار بے معاون مَیں نہ تھا تھی نُصرتِ حق میرے ساتھ فتح کی دیتی تھی وحیِ حق بشارت بار بار پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُس کی بند تھی پھر سزا پاکر لگایا سرمۂ دُنبالہ دار نام بھی کذّاب اس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روزِ شمار اب کہو کس کی ہوئی نُصرت جنابِ پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار پھر اِدھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار قتل کی ٹھانی شریروں نے چلائے تیرِ مکر بن گئے شیطاں کے چیلے اور نسلِ ہونہار