ہر ؔ طرف ہر ملک میں ہے بت پرستی کا زوال
کچھ نہیں انساں پرستی کو کوئی عزّ و وقار
آسماں سے ہے چلی توحیدِ خالق کی ہوا
دل ہمارے ساتھ ہیں گو مُنہ کریں بک بک ہزار
اسمعوا۔صوت السّما جاء المسیح جاء المسیح
نیز بشنو از زمیں آمد امامِ کامگار
آسماں بارد نشان الوقت مے گوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار
اب اِسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے
وقت ہے جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار
اِک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا
پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار
اے مکذّب کوئی اس تکذیب کا ہے انتہا
کب تلک تو خوئے شیطاں کو کرے گا اختیار
ملّت احمد کی مالک نے جو ڈالی تھی بِنا
آج پوری ہو رہی ہے اے عزیزانِ دیار
گلشنِ احمد بنا ہے مسکنِ بادِ صبا
جس کی تحریکوں سے سنتا ہے بشر گفتارِ یار
ورنہ وہ ملّت وہ رہ وہ رسم وہ دیں چیز کیا
سایہ افگن جس پہ نور حق نہیں خورشید وار
دیکھ کر لوگوں کے کینے دل مرا خوں ہو گیا
قصد کرتے ہیں کہ ہو پامال درِّ شاہوار
ہم تو ہر دم چڑھ رہے ہیں اک بلندی کی طرف
وہ بلاتے ہیں کہ ہو جائیں نہاں ہم زیرِ غار
نُورِ دل جاتا رہا اِک رسم دیں کی رَہ گئی
پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلحِ دیں کیا بکار
راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں
وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلافِ شہریار
ہائے مارِ آستیں وہ بن گئے دیں کے لئے
وہ تو فربہ ہو گئے پر دیں ہوا زار و نزار
اِن غموں سے دوستو خم ہو گئی میری کمر
میں تو مرجاتا اگر ہوتا نہ فضل کردگار
اِس تپش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش
اِس اَلَم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دِلفگار
کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا
مہر و ماہ کی آنکھ غم سے ہوگئی تاریک و تار
مفتری کہتے ہوئے ان کو حیا آتی نہیں
کیسے عالِم ہیں کہ اُس عالَم سے ہیں یہ برکنار