کیاؔ خدا بھولا رہا تم کو حقیقت مل گئی
کیا رہا وہ بے خبر اور تم نے دیکھا حالِ زار
بدگمانی نے تمہیں مجنون و اندھا کردیا
ورنہ تھے میری صداقت پر براہیں بیشمار
جہل کی تاریکیاں اور سوء ظن کی تند باد
جب اکٹھے ہوں تو پھر ایماں اُڑے جیسے غبار
زہر کے پینے سے کیا انجام جز موت و فنا
بدگمانی زہر ہے اس سے بچو اے دیں شعار
کانٹے اپنی راہ میں بوتے ہیں ایسے بدگمان
جن کی عادت میں نہیں شرم و شکیب و اصطبار
یہ غلط کاری بشر کی بدنصیبی کی ہے جڑ
پر مقدر کو بدل دینا ہے کس کے اختیار
سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں
دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار
جو خدا کا ہے اُسے للکارنا اچھا نہیں
ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبۂ زار و نزار
ہے سرِرہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم
پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار
سنت اللہ ہے کہ وہ خود فرق کو دکھلائے ہے
تا عیاں ہو کون پاک اور کون ہے مُردار خوار
مجھ کو پردے میں نظرآتا ہے اِک میرا معیں
تیغ کو کھینچے ہوئے اُس پر جو کرتا ہے وہ وار
دشمنِ غافل اگر دیکھے وہ بازو وہ سلاح
ہوش ہو جائیں خطا اور بھول جائے سب نقار
اس جہاں کا کیا کوئی داور نہیں اور داد گر
پھر شریرالنفس ظالم کو کہاں جائے فرار
کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہوکر مسیح
خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار
آسمان پر دعوتِ حق کیلئے اک جوش ہے
ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار
آرہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج
نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار
کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع
پھر ہوئے ہیں چشمۂ توحید پر از جاں نثار
باغ میں ملّت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا
آئی ہے بادِ صبا گلزار سے مستانہ وار
آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اُس کا انتظار