ابؔ نہیں ہیں ہوش اپنے اِن مصائب میں بجا رحم کر بندوں پہ اپنے تا وہ ہوویں رستگار کس طرح نپٹیں کوئی تدبیر کچھ بنتی نہیں بے طرح پھیلی ہیں یہ آفات ہر سو ہر کنار ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آمرے اے ناخدا آگیا اِس قوم پر وقتِ خزاں اندر بہار نورِ دل جاتا رہا اور عقل موٹی ہوگئی اپنی کج رائی پہ ہردل کر رہا ہے اعتبار جس کو ہم نے قطرۂ صافی تھا سمجھا اور تقی غور سے دیکھا تو کیڑے اُس میں بھی پائے ہزار دوربینِ معرفت سے گند نکلا ہر طرف اس وبا نے کھالئے ہر شاخِ ایمان کے ثمار اے خدا بن تیرے ہو یہ آبپاشی کس طرح جل گیا ہے باغِ تقویٰ دیں کی ہے اب اک مزار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہر دم سیل وار اِک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہوگیاہے بے نشاں اِک نظر کر اس طرف تا کچھ نظر آوے بہار کیا کہوں دنیا کے لوگوں کی کہ کیسے سوگئے کسقدر ہے حق سے نفرت اور ناحق سے پیار عقل پر پردے پڑے سوسو نشاں کو دیکھ کر نور سے ہوکر الگ چاہا کہ ہوویں اہلِ نار گر نہ ہوتی بدگمانی کفر بھی ہوتا فنا اُس کا ہووے ستیاناس اِس سے بگڑے ہوشیار بدگمانی سے تو رائی کے بھی بنتے ہیں پہاڑ پَرکے اک ریشہ سے ہوجاتی ہے کوّوں کی قطار حد سے کیوں بڑھتے ہو لوگو کچھ کرو خوفِ خدا کیا نہیں تم دیکھتے نصرت خدا کی بار بار کیا خدا نے اتقیا کی عون و نصرت چھوڑ دی ایک فاسق اور کافر سے وہ کیوں کرتا ہے پیار ایک بدکردار کی تائید میں اتنے نشاں کیوں دکھاتا ہے وہ کیا ہے بدکنوں کا رشتہ دار کیا بدلتا ہے وہ اب اس سنت و قانون کو جس کا تھا پابند وہ از ابتدائے روزگار آنکھ گر پھوٹی تو کیا کانوں میں بھی کچھ پڑ گیا کیا خدا دھوکے میں ہے اور تم ہو میرے راز دار جس کے دعویٰ کی سراسر افترا پر ہے بِنا اُس کی یہ تائید ہو پھر جھوٹ سچ میں کیا نکھار