کیا ؔ وہ سارے مرحلے طے کرچکے تھے علم کے
کیا نہ تھی آنکھوں کے آگے کوئی رہ تاریک و تار
دل میں جو ارماں تھے وہ دل میں ہمارے رہ گئے
دشمن جاں بن گئے جن پر نظر تھی باربار
ایسے کچھ بگڑے کہ اب بننا نظر آتا نہیں
آہ کیا سمجھے تھے ہم اور کیا ہوا ہے آشکار
کس کے آگے ہم کہیں اِس دردِ دل کا ماجرا
اُن کو ہے ملنے سے نفرت بات سننا درکنار
کیا کروں کیونکر کروں مَیں اپنی جاں زیرو زبر
کس طرح میری طرف دیکھیں جو رکھتے ہیں نقار
اِس قدر ظاہر ہوئے ہیں فضل حق سے معجزات
دیکھنے سے جن کے شیطاں بھی ہوا ہے دلفگار
پر نہیں اکثر مخالف لوگوں کو شرم و حیا
دیکھ کر سو سو نشاں پھر بھی ہے توہیں کاروبار
صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں
اِک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوف کردگار
دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے
اے مرے سورج نکل باہر کہ میں ہوں بیقرار
اے مرے پیارے فدا ہو تجھ پہ ہر ذرّہ مرا
پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار
کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شورہے
خاک میں ہوگا یہ سرگر تو نہ آیا بن کے یار
فضل کے ہاتھوں سے اب اِسوقت کر میری مدد
کشتیِ ء اسلام تا ہو جائے اس طوفاں سے پار
میرے سُقم و عَیب سے اب کیجئے قطعِ نظر
تا نہ خوش ہو دشمنِ دیں جس پہ ہے *** کی مار
میرے زخموں پر لگا مرہم کہ میں رنجور ہوں
میری فریادوں کو سن میں ہو گیا زار و نزار
دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضُعفِ دینِ مصطفی
مجھ کو کر اے میرے سلطاں کامیاب و کامگار
کیا سُلائے گا مجھے تو خاک میں قبل از مراد
یہ تو تیرے پر نہیں امید اے میرے حصار
یا الٰہی فضل کر اسلام پر اور خود بچا
اس شکستہ ناؤ کے بندوں کے اب سن لے پکار
قوم میں فسق و فجور و معصیت کا زور ہے
چھا رہا ہے ابرِ یاس اور رات ہے تاریک و تار
ایک عالم مرگیا ہے تیرے پانی کے بغیر
پھیر دے اب میرے مولیٰ اس طرف دریا کی دھار