سچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مرگئے
اَب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گذر گئے
پابند ایسے دینوں کے دنیا پرست ہیں
غافل ہیں ذوقِ یار سے دنیا میں مست ہیں
مقصود اُن کا جینے سے دنیا کمانا ہے
مومن نہیں ہیں وہ کہ قدم فاسقانہ ہے
تم دیکھتے ہو کیسے دلوں پر ہیں اُن کے زنگ
دنیا ہی ہوگئی ہے غرض۔ دین سے آئے ننگ
وہ دیں ہی چیز کیا ہے کہ جو رہنما نہیں
ایسا خدا ہے اُس کا کہ گویا خدا نہیں
پھر اُس سے سچی راہ کی عظمت ہی کیا رہی
اور خاص وجہ صفوتِ ملّت ہی کیا رہی
نُور خدا کی اُس میں علامت ہی کیارہی
توحید خشک رہ گئی نعمت ہی کیا رہی
لوگو ! سنو! کہ زندہ خدا وہ خدا نہیں
جس میں ہمیشہ عادتِ قدرت نما نہیں
مُردہ پرست ہیں وہ جو قصہ پرست ہیں
پس اس لئے وہ موردِ ذِل و شکست ہیں
بن دیکھے دل کو دوستو پڑتی نہیں ہے کل
قصوں سے کیسے پاک ہو یہ نفس پُرخلل
کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں
پر دیکھو کیسے ہوگئے شیطاں سے ہم عناں
ہر دم نشانِ تازہ کا محتاج ہے بشر
قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر
کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبرِ ازل
گر اِک نشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پھل
قصوں کا یہ اثر ہے کہ دل پُر فساد ہے
ایماں زباں پہ۔ سینہ میں حق سے عِناد ہے
دُنیاؔ کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مرگئے
غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے
اے سونے والو جاگو کہ وقتِ بہار ہے
اب دیکھو آکے درپہ ہمارے وہ یار ہے
کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا
*** ہے ایسے جینے پہ گر اُس سے ہیں جُدا