پھرؔ دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں
تا وہ نخلِ راستی اس ملک میں لاوے ثمار
لوگ سَو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور ہیں
تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں راز دار
ہاتھ میں تیرے ہے ہرخسران و نفع و عُسرویُسر
تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار
جس کو چاہے تختِ شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو
جس کو چاہے تخت سے نیچے گرا دے کر کے خوار
میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں
جس کو تو نے کردیا ہے قوم و دیں کا افتخار
فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار
سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم برقرار
عزت و ذلّت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں
تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور بادِ بہار
میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کردیا
کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار
تیرے اے میرے مُربی کیا عجائب کام ہیں
گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار
ابتدا سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند
شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار
پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا
میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار
اس میں میرا جرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا
کون ہوں تا رد کروں حکمِ شہِ ذِی الاقتدار
اب تو جو فرماں ملا اُس کا ادا کرنا ہے کام
گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتواں و دل فگار
دعوتِ ہر ہرزہ گو کچھ خدمتِ آساں نہیں
ہر قدم میں کوہِ ماراں ہرگذر میں دشتِ خار
چرخ تک پہنچے ہیں میرے نعرہ ہائے روز و شب
پر نہیں پہنچی دلوں تک جاہلوں کے یہ پکار
قبضۂ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا
پھیردے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار
گر کرے مُعجز نمائی ایک دم میں نرم ہو
وہ دلِ سنگیں جو ہووے مثلِ سنگ کوہسار
ہائے میری قوم نے تکذیب کرکے کیا لیا
زلزلوں سے ہوگئے صدہا مساکن مثلِ غار
شرط تقویٰ تھی کہ وہ کرتے نظر اس وقت پر
شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار