اور دراصل وہ خدا کا حکم تھا تو یہ انحراف موجب معصیت ہوا۔ اور اگر اُس حکم کو بجا لایا اور اصل میں شیطان کی طرف سے وہ حکم تھا تو اس سے ایمان گیا ۔ پس ایسے الہام پانے والوں سے وہ لوگ اچھے رہے جو ایسے خطرناک الہامات سے جن میں شیطان بھی حصہ دار ہوسکتا ہے۔ محروم ہیں۔ ایسے عقیدہ کی حالت میں عقل بھی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ممکن ہے کہ کوئی الہام الٰہی ایسا ہو جیساکہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا تھا جس کی تعمیل میں اس کے بچہ کی جان خطرہ میں پڑتی تھی یا جیسا کہ خضر علیہ السلام کا الہام تھا جس نے بظاہر حال ایک نفس زکیہ کا ناحق خون کیا اورچونکہ ایسے امور بظاہر شریعت کے برخلاف ہیں اس لئے شیطانی دخل کے احتمال سے کون ان پر عمل کرے گا اورؔ بوجہ عدم تعمیل معصیت میں گرے گا۔ اور ممکن ہے کہ شیطان لعین کوئی ایساحکم دے کہ بظاہر شریعت کے مخالف معلوم نہ ہو اور دراصل بہت فتنہ اور تباہی کا موجب ہو یا پوشیدہ طورپر ایسے امور ہوں جو موجب سلبِ ایمان ہوں۔پس ایسے مکالمہ مخاطبہ سے فائدہ کیا ہوا۔ پھر آیاتِ متذکرہ بالا کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین یعنی مسیح موعود اس قوم کو جو یاجوج ماجوج سے ڈرتی ہے کہے گا کہ مجھے تانبا لادو کہ مَیں اس کو پگھلا کر اُس دیوار پر انڈیل دوں گا۔ پھر بعد اس کے یاجوج ماجوج طاقت نہیں رکھیں گے کہ ایسی دیوار پر چڑھ سکیں یا اس میں سوراخ کرسکیں۔ یاد رہے کہ لوہا اگرچہ بہت دیر تک آگ میں رہ کر آگ کی صورت اختیار کرلیتا ہے مگر مشکل سے پگھلتا ہے مگر تانبا جلد پگھل جاتا ہے اور سالک کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں پگھلنا بھی ضروری ہے ۔ پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مستعد دل اور نرم طبیعتیں لاؤ کہ جو خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھ کر پگھل جائیں کیونکہ سخت دلوں پر خدا تعالیٰ کے نشان کچھ اثر نہیں کرتے لیکن انسان شیطانی حملے سے تب محفوظ ہوتا ہے کہ اول استقامت میں لوہے کی طرح ہو