آگ نہیں ہے مگر چونکہ آگ نہایت درجہ اس پر غلبہ کر گئی ہے اس لئے آگ کے صفات اُس سے ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ آگ کی طرح جلا سکتا ہے ۔ آگ کی طرح اس میں روشنی ہے ۔ پس محبت الٰہیہ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس رنگ سے رنگین ہو جائے اور اگر اسلام اس حقیقت تک پہنچانہ سکتا تو وہ کچھ چیز نہ تھا لیکن اسلام اس حقیقت تک پہنچاتا ہے ۔اوّلؔ انسان کو چاہیئے کہ لوہے کی طرح اپنی استقامت اور ایمانی مضبوطی میں بن جائے کیونکہ اگر ایمانی حالت خس و خاشاک کی طرح ہے تو آگ اُس کو چھوتے ہی بھسم کردے گی۔ پھر کیونکر وہ آگ کا مظہر بن سکتا ہے۔افسوس بعض نادانوں نے عبودیّت کے اُس تعلق کو جو ربوبیّت کے ساتھ ہے جس سے ظلّی طور پر صفاتِ الٰہیہ بندہ میں پیدا ہوتے ہیں نہ سمجھ کر میری اس وحی من اللہ پراعتراض کیاہے کہ اِنَّما امرک اذا اردتَ شیءًا ان تقول لہ کُنْ فیکون۔ یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے کہ ہو جاتو وہ ہو جاتی ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا یہ میری طرف سے نہیں ہے اور اس کی تصدیق اکابر صوفیہ اسلام کر چکے ہیں جیسا کہ سید عبد القادر جیلانی ؓ نے بھی فتوح الغیب میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ کہ سید عبد القادر جیلانی ؓ نے بھی یہی آیت پیش کی ہے۔ افسوس لوگوں نے صرف رسمی ایمان پر کفایت کرلی ہے اور پوری معرفت کی طلب ان کے نزدیک کفر ہے اور خیال کرتے ہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے حالانکہ وہ کچھ بھی چیز نہیں اور اس سے منکر ہیں کہ کسی سے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کامکالمہ مخاطبہ یقینی اور واقعی طور پر ہوسکتا ہے۔ ہاں اس قدر اُن کا خیال ہے کہ دلوں میں القاتو ہوتا ہے مگر نہیں معلوم کہ وہ القاشیطانی ہے یارحمانی ہے اور نہیں سمجھتے کہ ایسے القاسے ایمانی حالت کو فائدہ کیاہوا اور کونسی ترقی ہوئی بلکہ ایسا القاتو ایک سخت ابتلا ہے جس میں معصیت کااندیشہ یا ایمان جانے کا خطرہ ہے کیونکہ اگر ایسی مشتبہ وحی میں جو نہیں معلوم شیطان سے ہے یا رحمان سے ہے کسی کو تاکیدی حکم ہو کہ یہ کام کر تو اگر اس نے وہ کام نہ کیا اس خیال سے کہ شاید یہ شیطان نے حکم دیا ہے