اور پھر وہ لوہا خدا تعالیٰ کی محبت کی آگ سے آگ کی صورت پکڑ لے اور پھر دل پگھل کر اس لوہے پر پڑ ے اور اس کو منتشر اور پراگندہ ہونے سے تھام لے ۔ سلوک تمام ہونے کے لئے یہ تین ہی شرطیں ہیں جو شیطانی حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے سدِّ سکندری ہیں اور شیطانی رُوح اس دیوار پر چڑھ نہیں سکتی اورنہ اس میں سوراخ کرسکتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ یہ خدا کی رحمت سے ہوگا اور اس کاہاتھ یہ سب کچھ کرے گا۔ انسانی منصوبوں کا اس میں دخل نہیں ہوگا۔ اور جب قیامت کے دن نزدیک آجائیں گے تو پھر دوبارہ فتنہ برپا ہو جائے گا یہ خدا کا وعدہ ہے اور پھر فرمایا کہ ذوالقرنین کے زمانہ میں جو مسیح موعود ہے ہر ایک قوم اپنے مذہب کی حمایت میں اُٹھے گی اور جس طرح ایک موج دوسری موج پر پڑتی ہے ایک دوسرے پر حملہ کریں گے اتنے میں آسمان پر قرناء پھونکی جائے گی یعنی آسمان کا خدا مسیح موعود کو مبعوث فرماکر ایک تیسری قوم پیدا کر دے گا اور ان کی مددکے لئے بڑے بڑے نشان دکھلائے گا یہاں تک کہ تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر یعنی اسلام پر جمع کردے گا۔ اور وہ مسیح کی آواز سنیں گے اور اس کی طرف دوڑیں گے تب ایک ہی چوپان اور ایک ہی گلہ ہوگا اوروہ دن بڑے سخت ہوں گے۔ اور خدا ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کردے گا۔ اور جو لوگ کفر پر اصرار کرتے ہیں وہ اسی دنیا میں بباعث طرح طرح کی بلاؤں کے دوزخ کامنہ دیکھ لیں گے۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کی آنکھیں میری کلام سے پردہ میں تھیں اور جن کے کان میرے حکم کو سن نہیں سکتے تھے کیا ان منکروں نے یہ گمان کیا تھا کہ یہ امر سہل ہے کہ عاجز بندوں کو خدا بنا دیا جائے اور میں معطل ہو جاؤں اس لئے ہم ان کی ضیافت کے لئے اِسی دنیا میں جہنم کو نمودار کردیں گے۔ یعنی بڑے بڑے ہولناک نشان ظاہر ہوں گے اور یہ سب نشان اس کے مسیح موعود کی سچائی پر گواہی دیں گے ۔ اُس کریم کے فضل کو دیکھو کہ یہ انعامات اِس مُشتِ خاک پر ہیں جس کو مخالف کافر اور دجّال کہتے ہیں۔