پھر ذوالقرنین یعنی مسیح موعود ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا۔ اور جب وہ ایک ایسے موقعہ پر پہنچے گا یعنی جب وہ ایک ایسانازک زمانہ پائے گا جس کو بین السدّین کہنا چاہیئے یعنی دو پہاڑوں کے بیچ مطلب یہ کہ ایسا وقت پائے گا جب کہ دو طرفہ خوف میں لوگ پڑے ہوں گے اور ضلالت کی طاقت حکومت کی طاقت کے ساتھ مل کر خوفناک نظارہ دکھائے گی تو ان دونوں طاقتوں کے ماتحت ایک قوم کو پائے گا جو اُس کی بات کو مشکل سے سمجھیں گے یعنی غلط خیالات میں مبتلا ہوں گے اور بباعث غلط عقائد مشکل سے اُس ہدایت کو سمجھیں گے جو وہ پیش کرے گا لیکن آخر کار سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے اور یہ تیسری قوم ہے جو مسیح موعود کی ہدایات سے فیض یاب ہوں گے تب وہ اس کو کہیں گے کہ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج نے زمین پر فساد مچا رکھا ہے پس اگر آپ کی مرضی ہو تو ہم آپ کے لئے چندہ جمع کردیں تا آپ ہم میں اور ان میں کوئی روک بنادیں۔ وہ جواب میں کہے گا کہ جس بات پر خدا نے مجھے قدرت بخشی ہے وہ تمہارے چندوں سے بہتر ہے ہاں اگر تم نے کچھ مدد کرنی ہو تو اپنی طاقت کے موافق کرو تا میں تم مَیں اور ان میں ایک دیوار کھینچ دوں۔ یعنی ایسے طور پر اُن پر حجت پوری کروں کہ وہ کوئی طعن تشنیع اور اعتراض کا تم پرحملہ نہ کرسکیں۔ لوہے کی سلیں مجھے لادو تا آمد و رفت کی راہوں کو بند کیا جائے یعنی اپنے تئیں میری تعلیم اور دلائل پر مضبوطی سے قائم کرو اور پوری استقامت اختیار کرو اور اس طرح پر خود لوہے کی سِل بن کر مخالفانہ حملوں کو روکو اور پھر سلوں میں آگ پھونکو جب تک کہ وہ خود آگ بن جائیں۔ یعنی محبت الٰہی اس قدر اپنے اندر بھڑکاؤ کہ خود الٰہی رنگ اختیار کرو۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ سے کمال محبت کی یہی علامت ہے کہ محب میں ظلی طور پر الٰہی صفات پیدا ہو جائیں۔ اور جب تک ایسا ظہور میں نہ آوے تب تک دعوی ئ محبت جھوٹ ہے۔ محبت کاملہ کی مثال بعینہٖ لوہے کی وہ حالت ہے جب کہ وہ آگ میں ڈالا جائے اور اس قدر آگ اُس میں اثر کرے کہ وہ خود آگ بن جائے۔ پس اگرچہ وہ اپنی اصلیت میں لوہا ہے