روشنی بھی جاتی رہے۔*اس تقسیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود کا اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے کے لئے تین قسم کا دورہ ہوگا۔ اوّ۱ل اس قوم پر نظر ڈالے گا جو آفتاب ہدایت کو کھو بیٹھے ہیں اور ایک تاریکی اور کیچڑ کے چشمہ میں بیٹھے ہیں۔ دو۲سرا دورہ اس کا ان لوگوں پر ہوگا جو ننگ دھڑنگ آفتاب کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یعنی ادب سے اور حیا سے اور تواضع سے اور نیک ظن سے کام نہیں لیتے نرے ظاہر پرست ہیں گویا آفتاب کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں سو وہ بھی فیض آفتاب سے بے نصیب ہیں اور ان کو آفتاب سے بجز جلنے کے اور کوئی حصہ نہیں۔ یہ ان مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جن میں مسیح موعود ظاہر تو ہوا مگر وہ انکار اور مقابلہ سے پیش آئے اور حیا اور ادب اورحسن ظن سے کام نہ لیا اس لئے سعادت سے محروم رہ گئے بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔
اس جگہ خدا تعالیٰ کو یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ مسیح موعود کے وقت تین گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ تفریط کی راہ لے گا۔ جو روشنی کو بالکل کھو بیٹھے گا۔ اور دوسرا گروہ افراط کی راہ اختیار کرے گا جو تواضع اور انکسار اور فروتنی سے روشنی سے فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ خیرہ طبع ہو کر مقابلہ کرنے والے کی طرح روحانی دھوپ کے سامنے محض برہنہ ہونے کی حالت میں کھڑا ہو گا۔ مگر تیسرا گروہ میانہ حالت میں ہو گا۔ وہ مسیح موعود سے چاہیں گے کہ کسی طرح یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور یاجوج ماجوج اجیج کے لفظ سے نکلا ہے۔ یعنی وہ قوم جو آگ کے استعمال کرنے میں ماہر ہے۔ منہ