کا شیوہ اختیار کرے تب ذوالقرنین یعنی مسیح موعود جو اب دے گا کہ ہم اُسی کو سزا دلانا چاہتے ہیں جو ظالم ہو۔ وہ دنیا میں بھی ہماری بد دُعا سے سزا یاب ہو گا اور پھر آخرت میں سخت عذاب دیکھے گا۔ لیکن جو شخص سچائی سے منہ نہیں پھیرے گا اور نیک عمل کرے گا اس کو نیک بدلہ دیا جائے گا اور اس کو انہیں کاموں کی بجاآوری کا حکم ہوگا جو سہل ہیں اور آسانی سے ہوسکتے ہیں ۔ غرض یہ مسیح موعود کے حق میں پیشگوئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گاجبکہ مغربی ممالک کے لوگ نہایت تاریکی میں پڑے ہوں گے اور آفتابِ صداقت اُن کے سامنے سے بالکل ڈوب جائے گا اور ایک گندے اور بدبودارچشمہ میں ڈوبے گا یعنی بجائے سچائی کے بدبو دار عقائد اور اعمال اُن میں پھیلے ہوئے ہوں گے۔ اور وہی ان کا پانی ہوگا جس کو وہ پیتے ہوں گے۔ اور روشنی کانام و نشان نہیں ہوگاتاریکی میں پڑے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہی حالت عیسائی مذہب کی آج کل ہے جیسا کہ قرآن شریف نے ظاہر فرمایا ہے اور عیسائیت کا بھاری مرکز ممالک مغربیہ ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔3333333۱یعنی پھر ذوالقرنین جو ؔ مسیح موعود ہے جس کو ہر ایک سامان عطا کیا جائے گا ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی ممالک مشرقیہ کے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالے گا اور وہ جگہ جس سے سچائی کاآفتاب نکلتاہے اس کو ایسا پائے گا کہ ایک ایسی نادان قوم پرآفتاب نکلا ہے جن کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی بھی سامان نہیں یعنی وہ لوگ ظاہر پرستی اور افراط کی دھوپ سے جلتے ہوں گے اور حقیقت سے بے خبر ہوں گے اور ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کے پاس حقیقی راحت کا سامان سب کچھ ہوگا جس کو ہم خوب جانتے ہیں مگر وہ لوگ قبول نہیں کریں گے اور وہ لوگ افراط کی دھوپ سے بچنے کے لئے کچھ بھی پناہ نہیں رکھتے ہوں گے۔ نہ گھر نہ سایہ دار درخت نہ کپڑے جو گرمی سے بچا سکیں اس لئے آفتاب صداقت جو طلوع کرے گا اُن کی ہلاکت کا موجب ہو جائے گا۔ یہ اُن لوگوں کے لئے ایک مثال ہے جو آفتاب ہدایت کی روشنی تو اُن کے سامنے موجود ہے اور اُس گروہ کی طرح نہیں ہیں جن کا آفتاب غروب ہو چکا ہے لیکن ان لوگوں کو اس آفتاب ہدایت سے بجز اس کے کوئی فائدہ نہیں کہ دھوپ سے چمڑا اُن کا جل جائے اوررنگ سیاہ ہو جائے اور آنکھوں کی