پیدا ہوئے کہ ہزاروں کو س کی خبریں چند منٹوں میں آنے لگیں۔ ہر ایک قوم کی وہ کتابیں شائع ہوئیں جو مخفی اور مستور تھیں۔ اور ہر ایک چیز کے بہم پہنچانے کے لئے ایک سبب پیدا کیا گیا۔ کتابوں کے لکھنے میں جو جو دقتیں تھیں وہ چھاپہ خانوں سے دفع اور دور ہوگئیں یہاں تک کہ ایسی ایسی مشینیں نکلی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے دس دن میں کسی مضمون کو اس کثرت سے چھاپ سکتے ہیں کہ پہلے زمانوں میں د۱۰س سال میں بھی وہ مضمون قید تحریر میں نہیں آسکتا تھا اور پھر ان کے شائع کرنے کے اس قدر حیرت انگیز سامان نکل آئے ہیں کہ ایک تحریر صرف چالیس دن میں تمام دنیا کی آبادی میں شائعؔ ہوسکتی ہے اور اس زمانہ سے پہلے ایک شخص بشرطیکہ اس کی عمر بھی لمبی ہو سو برس تک بھی اس وسیع اشاعت پر قادر نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے3333333333۱۔ یعنی جب ذو القرنین کو جو مسیح موعود ہے ہر ایک طرح کے سامان دیئے جائیں گے۔ پس وہ ایک سامان کے پیچھے پڑے گا ۔ یعنی وہ مغربی ممالک کی اصلاح کے لئے کمر باندھے گا اور وہ دیکھے گا کہ آفتاب صداقت اور حقانیت ایک کیچڑ کے چشمہ میں غروب ہوگیا اور اس غلیظ چشمہ اور تاریکی کے پاس ایک قوم کو پائے گا جو مغربی قوم کہلائے گی یعنی مغربی ممالک میں عیسائیت کے مذہب والوں کو نہایت تاریکی میں مشاہدہ کرے گا۔ نہ اُن کے مقابل پر آفتاب ہوگا جس سے وہ روشنی پا سکیں اور نہ اُن کے پاس پانی صاف ہوگا جس کو وہ پیویں یعنی ان کی علمی و عملی حالت نہایت خراب ہوگی اور وہ روحانی روشنی اور روحانی پانی سے بے نصیب ہوں گے۔ تب ہم ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کو کہیں گے کہ تیرے اختیار میں ہے چاہے تو اِن کو عذاب دے یعنی عذاب نازل ہونے کے لئے بددُعا کرے (جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مروی ہے) یا اُن کے ساتھ حسن سلوک