ذوالقرنین ہوں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورہ ء کہف میں ذوالقرنین کے قِصّہ کے بارے میں ہیں میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنی کھولے ہیں۔ مَیں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں مگر یاد رہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گذشتہ سے متعلق ہیں اور یہ آئندہ کے متعلق ۔ اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے ایک پیشگوئی ہے۔ اور ذوالقرنین کا قِصّہ مسیح موعود کے زمانہ کیلئے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف کی عبارت یہ ہے3۱؂ *یعنی یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین کاحال دریافت کرتے ہیں۔ ان کو کہو کہ میں ابھی تھوڑا سا تذکرہ ذوالقرنین کا تم کو سناؤں گا اور پھر بعد اس کے فرمایا۔33۲ ؂ یعنی ہم اس کو یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اور ہم ہر طرح سے سازو سامان اس کو دے دیں گے۔اور اُس کی کارروائیوں کو سہل اور آسان کرد یں گے۔ یاد رہے کہ یہ وحی براہین احمدیہ حصص سابقہ میں بھی میری نسبت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ فرماتا ہے الم نجعل لک سھولۃً فی کلّ امرٍیعنی کیا ہم نے ہر ایک امر میں تیر ے لئے آسانی نہیں کردی۔ یعنی کیا ہم نے تمام وہ سامان تیر ے لئے میسر نہیں کر دیئے جو تبلیغ اور اشاعت حق کے لئے ضروری تھے۔ جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس نے میرے لئے وہ سامان تبلیغ اوراشاعت حق کے میسر کر دیئے جو کسی نبی کے وقت میں موجود نہ تھے۔ تمام قوموں کی آمد و رفت کی راہیں کھولی گئیں۔ طے مسافرت کے لئے وہ آسانیاں کردی گئیں کہ برسوں کی راہیں دنوں میں طے ہونے لگیں اور خبر رسانی کے وہ ذریعے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ذو القرنین کا ذکر صرف گزشتہ زمانہ سے وابستہ نہیں بلکہ آئندہ زمانہ میں بھی ایک ذوالقرنین آنے والا ہے اور گزشتہ کا ذکر تو ایک تھوڑی سی بات ہے۔ منہ