وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہوں ۔ اسی طرح اس زمانہ میں تمام بدوں کے نمونے بھی ظاہرہوئے فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا یا ابوجہل ہو سب کی مثالیں اِس وقت موجود ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یا جوج ماجوج کے ذکر کے وقت اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
اسی طرح خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدّس کہ جری اللّٰہ فی حُلَلِ الانبیاء۔ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کارسول تمام نبیوں کے پیرائیوں میں یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کے بھی صفات ہوں کیونکہ سورہ ء کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحب وحی تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت فرمایا ہے 3۔۱پس اس وحی الٰہی کی رُو سے کہ جری اللّٰہ فی حُلَلِ الانبیاء۔ اِس اُمت کے لئے ذوالقرنین مَیں ہوں۔ اور قرآن شریف میں مثالی طور پر میری نسبت پیشگوئی موجود ہے مگر اُن کے لئے جو فراست رکھتے ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ذوالقرنین وہ ہوتا ہے جو د۲و صدیوں کو پانے والا ہو۔ اور میری نسبت یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے جس قدر اپنے اپنے طور پر صدیوں کی تقسیم کر رکھی ہے ان تمام تقسیموں کے لحاظ سے جب دیکھا جائے تو ظاہرہوگا کہ میں نے ہرایک قوم کی دو۲ صدیوں کو پالیا ہے ۔ میری عمراس وقت تخمیناً ۶۷سال ہے پس ظاہر ہے کہ اس حساب سے جیسا کہ میں نے دو۲ ہجری صدیوں کو پالیا ہے۔ ایسا ہی دو۲ عیسائی صدیوں کو بھی پالیا ہے اور ایسا ہی دو۲ ہندی صدیوں کو بھی جن کا سن بکرماجیت سے شروع ہوتا ہے اور میں نے جہاں تک ممکن تھا قدیم زمانہ کے تمام مماؔ لک شرقی اور غربی کی مقرر شدہ صدیوں کا ملاحظہ کیا ہے کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مقرر کردہ صدیوں میں سے دو۲ صدئیں میں نے نہ پائی ہوں۔ اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقرنین ہوگا۔ غرض بموجب نص وحی الٰہی کے مَیں