باز آجاویں۔ اور مالی امداد سے منہ پھیر لیں۔ مگر دنیا جانتی ہے کہ اُس اشتہار کے زمانہ میں میری جماعت ساٹھ۶۰ یا ستر۷۰ آدمی سے زیادہ نہ تھی۔ چنانچہ یہ امر سرکاری رجسٹروں سے بھی بخوبی معلوم ہو سکتا ہے کہ اُسؔ زمانہ میں زیادہ سے زیادہ تیس یا چالیس روپیہ ماہوار آمدنی تھی۔ مگر اس اشتہار کے بعد گویا مالی امداد کا ایک دریا رواں ہوگیا۔ اور آج تک کئی لاکھ لوگ بیعت میں داخل ہوئے اور اب تک ہرایک مہینہ میں پانسو کے قریب بیعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ انسان خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ میرا بیان بغیر کسی ثبوت کے نہیں۔ ملاوامل کا اشتہار اب تک میرے پاس موجود ہے جو لالہ شرمپت کے مشورہ سے لکھا گیا تھا۔ سرکاری مہمان شماری تو ہمارے سلسلہ کے لئے مقرر ہی ہے۔ پس اس اشتہار کی تاریخ اشاعت پڑھو اور پھر دوسری طرف سرکاری کاغذات کے ذریعہ سے اس زمانہ اور بعد کے زمانہ کا مقابلہ کرو کہ اشتہار سے پہلے کس قدر مہمان آتے تھے۔ کس قدر روپیہ آتا تھا۔ اور بعد میں کس قدر خدا کی مدد شامل ہوگئی۔ یہ امر منی آرڈر کے رجسٹروں اور کاغذات مہمان شماری سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ اُس زمانہ میں جبکہ ملاوامل نے اشتہار شائع کیا کس قدر میری جماعت تھی یعنی ان کاغذات سے جو پولس کی معرفت گورنمنٹ میں پہنچے ہیں بخوبی فیصلہ ہو سکتا ہے اور صفائی سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ ملاوامل نے لوگوں کو روکنے کے لئے اشتہار دیا کس قدر میری جماعت تھی اور ؔ کس قدر روپیہ آتا تھا اور پھر بعد میں کس قدر ترقی ہوئی۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قدر ترقی ہوئی کہ جیسا ایک قطرہ سے دریا بن جاتاہے۔ اور یہ ترقی بالکل غیر معمولی اور معجزانہ تھی۔ حالانکہ نہ صرف ملاوا مل نے بلکہ ہرایک دشمن نے اس ترقی کو روکنے کے لئے پورا زور لگایا اور چاہا کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی جھوٹی ثابت ہو۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دوسری پیشگوئی پوری ہوگئی یعنی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے پہلے سے فرمایا تھا دشمن لوگوں کے رجوع کو روک نہ سکے۔ اگر انسان حیا اور شرم کا کچھ مادہ اپنے اندر رکھتا ہو تو یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ عمیق در عمیق غیب کی باتیں جو خدائی قدرتوں سے پُر ہیں انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور سوچ