ایک ویرانہ اور خالی تھا اور کوئی ہمارے پاس نہیں آتا تھا ہاں یہ لوگ دن میں دو تین مرتبہ یا کم و بیش آجاتے تھے۔ یہ سب باتیں وہ حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔
پس جلسہ کے دن میری تقریر کا یہی خلاصہ تھا کہ قادیان کے آریوں پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو چکی ہے۔ خاص کر ان دونوں آریوں پر تو بخوبی اتمام حجت ہو چکا ہے جو بہت سے نشانوں کے گواہِ رؤیت ہیں۔ مگر وہ لوگ اس زبردست طاقتوں والے خدا سے نہیں ڈرتے جو ایک دم میں معدوم کر سکتا ہے۔ اور جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں اس پیشگوئی کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی پوری ہوگئی کہ جو اُسی کتاب براہین احمدیہ میں درج تھی اور اسی زمانہ میں جس کو قریباً چھبیس۲۶ برس گزر ؔ چکے ہیں تمام پنجاب و ہندوستان میں شائع ہو چکی تھی۔ یعنی یہ کہ دشمن بہت زور لگائیں گے کہ تا یہ عروج اور یہ نشان اور یہ رجوع خلائق ظہور میں نہ آوے اور لوگ مالی مدد نہ کریں لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی پیشگوئی کو پوری کرے گا۔ اور وہ سب نامراد رہیں گے۔ اور یہ پیشگوئیاں نہ صرف عربی میں ہیں بلکہ عربی میں‘ اردو میں‘ انگریزی میں‘ فارسی میں‘ عبرانی میں‘ براہین احمدیہ میں موجود ہیں۔
اور پھر جب چند سال کے بعد ان پیشگوئیوں کے آثار شروع ہونے لگے تو مخالفوں میں روکنے کے لئے جوش پیدا ہوا۔ قادیان میں لالہ ملاوا مل نے لالہ شرمپت کے مشورہ سے اشتہار دیا جس کو قریباً دس۱۰ برس گذر گئے۔ اس اشتہار میں میری نسبت یہ لکھا کہ یہ شخص محض مکّار فریبی ہے اور صرف دوکاندار ہے لوگ اِس کا دھوکہ نہ کھاویں۔ مالی مدد نہ کریں۔ ورنہ اپنا روپیہ ضائع کریں گے۔ اس اشتہار سے ان آریوں کا مدعا یہ تھا کہ تا لوگ رجوع سے
منکر ہوگئے ہیں جن کو کہ وہ دیکھ چکے ہیں۔ صرف آریہ اخبار کے حوالہ سے یہ لکھتا ہوں۔ اور میں نہیں امید رکھتا کہ کوئی انسان ایسا خدا تعالیٰ سے بے خوف ہو جائے کہ اپنی رؤیت کی گواہیوں سے منکر ہو جائے۔ ہر ایک شخص کا آخر خدا تعالیٰ سے معاملہ ہے۔ منہ