جن پر پینتیس ۳۵برس کا عرصہ گزر گیا ہے۔ مَیں نے اس الہام کو یعنی اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کو مُہر میں کھدوانے کے لئے تجویز کی اور لالہ ملاوا مل آریہ کو اس مُہر کے کھدوانے کے لئے امرتسر میں بھیجا اور محض اس لئے بھیجا کہ تا وہ اور لالہ شرمپت دوست اس کا دونوں اس پیشگوئی کے گواہ ہو جائیں چنانچہ وہ امرتسر گیا اور معرفت حکیم محمد شریف کلانوری کے پانچ روپیہ اجرت دے کر مُہر بنوا لایا جس کا نقش اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ہے جو اب تک موجود ہے۔ یہؔ الہام قریباً پینتیس۳۵ یا چھتیس۳۶ برس کا ہے جس کے یہ دونوں آریہ صاحبان گواہ ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ اُس زمانہ میں میری کیا حیثیت تھی۔ پھر اُس زمانہ میں جبکہ براہین احمدیہ جس میں مذکورہ بالا الہامات درج ہیں بمقام امرتسر پادری رجب علی کے مطبع میں چھپ رہی تھی ان دونوں آریوں کو خوب معلوم ہے کہ مَیں کیسا گمنامی میں زندگی بسر کرتا تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ یہ دونوں آریہ امرتسر میں میرے ساتھ جاتے تھے اور بجز ایک خدمتگار کے دوسرا آدمی نہیں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ صرف لالہ شرمپت ہی ساتھ جاتا تھا۔ یہ لوگ حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ اُس زمانہ میں میری گمنامی کی حالت کس درجہ تک تھی نہ قادیان میں میرے پاس کوئی آتا تھا اور نہ کسی شہر میں میرے جانے پر کوئی میری پروا کرتا تھا اور مَیں ان کی نظر میں ایسا تھا جیسا کہ کسی کا عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔ اب وہی قادیان ہے جس میں ہزاروں آدمی میرے پاس آتے ہیں اور وہی شہر امرتسر اور لاہور وغیرہ ہیں جو میرے وہاں جانے کی حالت میں صدہا آدمی پیشوائی کے لئے ریل پر پہنچتے ہیں۔ بلکہ بعض وقت ہزارہا لوگوں تک نوبت پہنچتی ہے۔ چنانچہ ۱۹۰۳ؔ ء ؁ میں جب مَیں نے جہلم کی طرف سفر کیا تو سب کو معلوم ہے کہ قریباً گیارہ ہزار آدمی پیشوائی کے لئے آیا تھا۔ ایساہی قادیان میں صدہا مہمانوں کی آمد کا ایک سلسلہ جواب جاری ہے اُس زمانہ میں اس کا نام و نشان نہ تھا۔ اور قادیان کے تمام ہندوؤں کو اور خاص کر لالہ شرمپت اور ملاوامل کو (جو اب قوم کے دباؤ کے نیچے آکر خدا کے نشانوں سے منکر ہوتے ہیں* ) خوب معلوم ہے کہ ان دنوں میں ہمارا مردانہ مکان محض مجھے واقعی طور پر معلوم نہیں کہ درحقیقت لالہ شرمپت اور لالہ ملاوا مل سچ مچ ان تمام نشانوں سے