کہ اب تک کئی لاکھ روپیہ آچکا ہے اور قریباً پندرہ سو روپیہ اور کبھی دو ہزار ماہوار لنگر خانہ پر خرچ ہو جاتا ہے اور مدرسہ وغیرہ کی آمدنی علیحدہ ہے۔ یہ ایک ایسا نشان ہے کہ جس سے قادیان کے ہندوؤں کو فائدہ اُٹھانا چاہئے تھا کیونکہ وہ ؔ اس نشان کے اوّل گواہ تھے ان کو معلوم تھاکہ اس پیشگوئی کے زمانہ میں مَیں کس قدر گمنام اور پوشیدہ تھا۔
یہ تقریر تھی جو اس جلسہ میں مَیں نے کی تھی اور تقریر کے آخر میں مَیں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ اِس نشان کے سب آریوں میں سے بڑھ کر گواہ لالہ شرمپت اور لالہ ملاوا مل ساکنانِ قادیان ہیں کیونکہ اُن کے روبرو کتاب براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے چھپی اور شائع ہوئی ہے بلکہ براہین احمدیہ کے چھپنے سے پہلے اُس زمانہ میں جبکہ میرے والد صاحب فوت ہوئے تھے یہ پیشگوئی اِن ہر دو آریوں کو بتلائی گئی تھی جس کا مختصر بیان یہ ہے کہ میرے والد صاحب کے فوت ہونے کی خبر ان الفاظ سے خدا تعالیٰ نے مجھے دی تھی کہ وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ۔ یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو غروب آفتاب کے بعد پڑے گا اور ساتھ ہی سمجھایا گیا تھا کہ اس پیشگوئی کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا والد آفتاب کے غروب کے ساتھ ہی وفات پائے گا۔ اور یہ الہام بطور ماتم پُرسی کے تھا جو اپنے خاص بندوں سے عادت اللہ میں داخل ہے۔ اور جب یہ خبرؔ سن کر تردّد اور غم پیدا ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ہماری اکثر وجوہ معاش جو ان کی ذات سے وابستہ ہیں نابود ہو جائیں گی تب یہ الہام ہوا:۔
اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ
یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اِس وحیِ الٰہی میں صریحاً خبر دی گئی تھی کہ تمام حاجات کا خدا خود متکفّل ہوگا چنانچہ اس الہام کے مطابق غروب آفتاب کے بعدمیرے والد صاحب فوت ہوگئے اوران کے ذریعہ سے ہمارے جو وجوہ معاش تھے جیسے پنشن اور انعام وغیرہ سب ضبط ہوگئے۔ انہیں دنوں میں