مَیں نے یہ بھی کہا کہ مَیں جانتا ہوں کہ قادیان کے ہندو سب سے زیادہ خدا کے غضب کے نیچے ہیں کیونکہ خدا کے بڑے بڑے نشان دیکھتے ہیں اور پھر ایسی گندی گالیاں دیتے اور دُکھ پہنچاتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ خدا نے اس گاؤں میں کیسا بڑا نشانِ قدرت دکھلایا ہے۔ وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہیں کہ آج سے چھبیس ستائیس برس پہلے مَیں کیسی گمنامی کے گوشہ میں پڑا ہوا تھا۔ کیا کوئی بول سکتا ہے کہ اُس وقت یہ رجوعِ خلائق موجود تھا۔ بلکہ ایک انسان بھی میری جماعت میںؔ داخل نہ تھا اور نہ کوئی میرے ملنے کیلئے آتا تھا۔ اور بجز اپنی ملکیت کی قلیل آمدن کے کوئی آمدنی بھی نہیں تھی۔ پھر اُسی زمانہ میں بلکہ اُس سے بھی پہلے جس کو پینتیس۳۵ برس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرتا ہے خدا نے مجھے یہ خبر دی کہ ’’ہزاروں لاکھوں انسان ہر ایک راہ سے تیرے پاس آویں گے یہاں تک کہ سڑکیں گھِس جائیں گی۔ اور ہر ایک راہ سے مال آئے گا۔ اور ہر ایک قوم کے مخالف اپنی تدبیروں سے زور لگائیں گے کہ یہ پیشگوئی وقوع میں نہ آوے۔ مگر وہ اپنی کوششوں میں نامراد رہیں گے‘‘۔ یہ خبر اُسی زمانہ میں میری کتاب براہین احمدیہ میں چھپ کر ہر ایک ملک میں شائع ہوگئی تھی۔ پھر کچھ مدت کے بعد اس پیشگوئی کا آہستہ آہستہ ظہور شروع ہوا چنانچہ اب میری جماعت میں تین لاکھ سے زیادہ آدمی ہیں*۔اور فتوحات مالی کا یہ حال ہے اس رسالہ کے لکھنے کے وقت ملک مصر سے یعنی مقام اسکندریہ سے کل ۲۳؍ جنوری ۷ ۱۹۰ء ؁ کو ایک خط بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔ لکھنے والا ایک معزز بزرگ اس شہر کا ہے یعنی اسکندریہ کا ۔جن کا نام ہے احمد زہری بدرالدین۔ خط محفوظ ہے جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مَیں آپ کو یہ خوشخبریؔ دیتا ہوں کہ اس ملک میں آپ کے تابع اور آپ کی پیروی کرنے والے اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ جیسے بیابان کی ریت اور کنکریں۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے خیال میں کوئی ایسا باقی نہیں جو آپ کا پَیرو نہیں ہوگیا۔ منہ