منع کیا مگر وہ ناپاک طبع آریہ باز نہ آیا۔ اور معزز مسلمانوں کو کنجر کے پلید لفظ سے بار بار یا دکرتا اور اشتعال دلاتا رہا۔ یہ ایک بڑا دُکھ تھا جو عین نماز کی حالت میں مجھے اُٹھانا پڑا۔ اور یہ بھی خوف تھا کہ ہماری جماعت میں سے کسی کو جوش پیدا ہو مگر خدا کا شکر ہے کہ سب نے صبر کیا۔ تعجب ہے کہ کیوں اُس نے یہ پلید اور گندہ لفظ اس جماعت کے لئے اختیار کیا۔ شاید اس کو اپنے مذہب کا نیوگ یاد آیا ہوگا*۔ اُس وقت سرکاری ملازم بٹالہ کا ایک ڈپٹی انسپکٹر بھی موجود تھا۔ غرض جب اس آریہ کی گالیاں حد سے بڑھ گئیں تو معزز مسلمانوں کے دلوں کو سخت رنج پہنچا۔ اور اگر وہ ایک وحشی قوم ہوتی تو قادیاؔ ن کے تمام آریوں کیلئے کافی تھی۔ مگر ان کے اخلاق قابلِ تحسین ہیں کہ ایک سفلہ طبع آریہ نے باوجودیکہ اس قدر گندی گالیاں دیں تا ہم انہوں نے ایسے صبر سے کام لیا کہ گویا مُردے ہیں جن میں آواز نہیں اور اس تعلیم کو یاد رکھا جو بار بار دی جاتی ہے کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ صبر کے ساتھ پیش آؤ۔ جب نماز ہو چکی تو مَیں نے دیکھا کہ ان گندی گالیوں سے بہت سے دلوں کو بہت رنج پہنچا تھا۔ تب مَیں نے اُن کی دلجوئی کے لئے اُٹھ کر یہ تقریر کی کہ یہ رنج جو پہنچا ہے اس کو دلوں سے نکال دو۔ خدا تعالیٰ دیکھتا ہے وہ ظالم کو آپ سزا دے گا۔ اور اُس وقت نیوگ آریہ مذہب کی رو سے ایک مذہبی حکم ہے جس کی رُو سے ایک آریہ کی پاک دامن عورت باوجود زندہ ہونے خاوند کے اور باوجود اس کے کہ اُس کو طلاق بھی نہیں دی گئی ایک دوسرے آدمی سے محض اولاد لینے کی غرض سے ہم بستر ہو سکتی ہے اور جب تک گیا۱۱رہ لڑکے غیر آدمی کے نطفہ سے پیدا ہوجائیں اس کام میں مشغول رہ سکتی ہے۔اور ایسی عورت مذہب کی رُو سے بڑی مقدس کہلاتی ہے۔ اور ایسا لڑکا ماں اور اپنے فرضی باپ دونوں کو دوزخ سے نجات دلانے والا اور مکتی کا داتا کہلاتا ہے۔ منہ