کہ اپنے مالوں سے تیری مدد کریں۔ فوج در فوج لوگ آئیں گے اور مال دیں گے اور اِس قدر آئیں گے کہ قریب ہے کہ تو تھک جائے وہ ہر ایک راہ سے سفر کر کے قادیان میںآئیں گے اوراُن کی آمد کی کثرت سے راہیں گہری ہو جائیں گی۔ اور جب اس پیشگوئی کے آثار ظاہر ہوں گے تو دشمن چاہیں گے کہ یہ پیشگوئی ظاہر نہ ہو۔ اور کوؔ شش کریں گے کہ ایسا نہ ہو مگر مَیں اُن کو نامراد رکھوں گا اور اپنا وعدہ پورا کروں گا اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی فرمایا کہ مَیں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۔ یہ خلاصہ ہے اس پیشگوئی کا جو آج سے چھبیس۲۶ برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکی ہے اور درحقیقت اس زمانہ سے بہت عرصہ پہلے کی پیشگوئی ہے جس کو کم سے کم پینتیس۳۵ برس ہوتے ہیں۔ سو اس جلسہ میں مَیں نے اس پیشگوئی کا ذکر کیا تھا اور اس کے لئے یہ تقریب پیش آئی تھی کہ جب ہم مع اپنی جماعت کے جو دو ہزار کے قریب تھی اپنی جامع مسجد میں نماز میں مشغول تھے۔ اور دُور دُور سے میری جماعت کے معزز لوگ آئے ہوئے تھے جن میں گورنمنٹ انگریزی کے بھی بڑے بڑے عہدہ دار اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نواب بھی موجود تھے تو عین اس حالت میں کہ جب ہم اپنی اس جامع مسجد میں نماز ادا کررہے تھے ایک ناپاک طبع آریہ برہمن نے گالیاں دینی شروع کیں اور نعوذ باللہ ان الفاظ سے بار بار گالیاں دیتا تھاکہ یہ سب کنجر اس جگہ جمع ہوئے ہیں کیوں باہر جاؔ کر نماز نہیں پڑھتے۔ اور پہلے سب سے مجھے ہی یہ گالی دی اور بار بار ایسے گندے الفاظ سے یاد کیا کہ بہتر ہے کہ ہم اس رسالہ کو اُن کی تفصیل سے پاک رکھیں۔قریباً ہم دو گھنٹہ تک نماز پڑھتے رہے اور وہ آریہ قوم کا برہمن برابر سخت اور گندے الفاظ کے ساتھ گالیاں دیتا رہا اُس وقت بعض دیہات کے سکھ بھی ہماری کثیر جماعت کو دیکھ رہے تھے اور حیرت کی نظر سے دیکھتے تھے کہ خدا نے ایک دنیا کو جمع کر دیا ہے۔ اور ان لوگوں نے بھی