قادیان کے آریہ اور ہم
ایک اخبار آریہ صاحبوں کی جو قادیان سے نکلتی ہے اور اب شاید جنوری ۱۹۰۷ء سے اس جگہ سے اس کا خاتمہ ہے اس میں میری نسبت لالہ شرمپت ساکن قادیان کا حوالہ دے کر ایک عجیب تہمت میرے پر لگائی گئی ہے اور وہ یہ کہ جو دسمبر ۱۹۰۶ء کے جلسہ میں ایک تقریب سے مَیں نے بیان کیا تھا کہ ان آسمانی نشانوں کے جو خدا نے مجھے عطا فرمائے ہیں صرف مسلمان ہی گواہ نہیں ہیں بلکہ اس قصبہ کے ہندو بھی گواہ ہیں جیسا کہ لالہ شرمپت اور لالہ ملاوا مل آریہ بھی جوؔ ساکنان قادیان ہیں ان کو میرے نشانوں کا علم ہے اور اس جلسہ میں مَیں نے صرف اسی قدر بیان نہیں کیا تھا بلکہ مَیں نے تمام مہمانوں کے رُو برو جو ہریک طرف سے اور نیز دُور دراز ملکوں سے دو ہزار کے قریب جمع تھے یہ بھی بیان کیا تھاکہ قطع نظر قادیان کے مسلمانوں کے اس قصبہ کے تمام ہندو بھی میرے نشانوں کے گواہ ہیں کیونکہ اس زمانہ پر پینتیس ۳۵برس کے قریب مدت گزر گئی جبکہ مَیں نے یہ ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔
’’کہ اگرچہ اب ُ تو اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں مگر وہ وقت آتا ہے کہ مَیں ہزاروں انسانوں کو تیری طرف رجوع دوں گا۔ اور اگرچہ اب تجھ میں کوئی مالی طاقت نہیں مگر مَیں بہت سے لوگوں کے دلوں میں اپنا الہام ڈالوں گا