قادیان کے آریہ
آریوں پر ہے صد ہزار افسوس
دل میں آتا ہے بار بار افسوس
ہوگئے حق کے سخت نافرمان
کر دیا دیں کو قوم پر قُربان
وہ نشاں جن کی روشنی سے جہاں
ہو کے بیدار ہو گیا لرزاں
اُن نشانوں سے ہیں یہ انکاری
پَر کہاں تک چلے گی طرّاری
اُن کے باطن میں اِک اندھیرا ہے
کین و نخوت نے آکے گھیرا ہے
لڑ رہے ہیں خدائے یکتا سے
باز آتے نہیں ہیں غوغا سے
قوم کے خوف سے وہ مرتے ہیں
سو نشاں دیکھیں کب وہ ڈرتے ہیں
موت لیکھو بڑی کرامت ہے
پر سمجھتے نہیں یہ شامت ہے
میرے مالک تو ان کو خود سمجھا
آسماں سے پھر اِک نشان دکھلا
تازہ نشان کی پیشگوئی
خدا فرماتا ہے کہ مَیں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہوگی وہ عام دنیا کے لئے ایک نشان ہوگا اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا۔ چاہیئے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کوعنقریب ظاہر کرے گا تا وہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اُس کی طرف سے ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاوے۔ آمین
المشتھر میرزا غلام احمدؐ مسیح موعود