وہ پیشگوئی جو ۵پانچ زلزلوں کے بارے میں ہے بتصریح بیان کر دی ہے تا تم پر حجت ہو اور تا تمہاری گمراہی پر موت نہ ہو۔ اے عزیز! خدا سے مت لڑو کہ اس لڑائی میں تم ہرگز فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ خدا کسی قوم پر ایسے سخت عذاب نازل نہیں کرتا اور نہ کبھی اُس نے کئے جب تک اُس قوم میں اُس کی طرف سے کوئی رسول نہ آیا ہو۔ یعنی جب تک اُس کا بھیجا ہوا اُن میں ظاہر نہ ہوا ہو۔ سو تم خدا کے قانونِ قدیم سے فائدہ اُٹھاؤ اورتلاش کرو کہ وہ کون ہے جس کے لئے تمہاری آنکھوں کے روبرو آسمان پر رمضان کے مہینہ میں کسوف خسوف ہوا اور زمین پر طاعون پھیلی اور زلزلے آئے۔ اور یہ پیشگوئیاں قبل از وقت کسؔ نے تم کو سُنائیں اور کس نے یہ دعویٰ کیا کہ مَیں مسیح موعود ہوں۔ اُس شخص کو تلاش کرو کہ وہ تم میں موجود ہے اور وہ یہی ہے کہ جو بول رہا ہے۔ 3 3 3 ۱؂۔ مَیں نے اِس جگہ تک مضمون کو ختم کیا تھا کہ آج پھر ۱۵؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو بروزپنج شنبہ وقت صبح یہ الہام ہوا۔ خدا نکلنے کو ہے انت منّی بمنزلۃ بروزی۔ وعد اللّٰہ اِنّ وعداللّٰہ لا یُبدّل۔ یعنی خدا اِن پانچ زلزلوں کو لانے سے اپنا چہرہ ظاہر کرے گا۔ اور اپنے وجود کو دکھلادے گا۔ اور تُومجھ سے ایسا ہے جیسا کہ مَیں ہی ظاہر ہوگیا۔ یعنی تیرا ظہور بعینہٖ میرا ظہور ہوگا یہ خدا کا وعدہ ہے کہ پا۵نچ زلزلوں کے ساتھ خدا اپنے تئیں ظاہر کرے گا۔ اور خدا کا وعدہ نہیں ٹلے گا اور وہ ضرور ہو کر رہے گا۔ یاد رہے کہ پیشگوئی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک صرف وعید کی جس سے مقصود صرف سزا دینا اور عذاب دینا ہوتا ہے۔ ایسی پیشگوئی اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو کسی کے ڈرنے اور توبہ اور استغفار یا صدقہ دُعا سے ٹل سکتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی پیشگوئی ٹل گئی اور ظہور میں نہ آئی کیونکہ یونس نبی کو وعید کے طور پر بتلایا ؔ گیا تھا کہ چالیس۴۰ دن تک تیری قوم پر عذاب نازل ہو جائے گا اور یہ پیشگوئی قطعی طور پر بغیر کسی شرط کے تھی مگر تب بھی