جب یونسؑ کی قوم نے توبہ اور استغفار کیا اور اُن کے دل ڈر گئے تو خدا تعالیٰ نے اس عذاب کا وارد کرنا موقوف رکھا اوروہ قطعی پیشگوئی ٹل گئی جس کی وجہ سے یونس نبی کو بڑی مصیبت پیش آئی اور اُس نے نہ چاہا کہ کذّاب کہلا کر پھر اپنی قوم کو مُنہ دکھاوے۔ اور وعید کی پیشگوئی کا توبہ استغفار یا صدقہ سے ٹل جانا ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ کسی فرقہ یا قوم کو اس سے انکار نہیں کیونکہ تمام انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے یہ بات مسلّم ہے کہ توبہ استغفار اور صدقہ خیرات سے بَلا ردّ ہو سکتی ہے۔ اَب ظاہر ہے کہ جس بَلا کو خدا نے کسی پر وارد کرنا چاہا ہے اگر نبی کو پیش از وقت اُس بَلا کا علم دیا جائے تو وہی وعید کی پیشگوئی کہلائے گی۔ اور اگر کسی نبی کو پیش از وقت اس کا علم نہ دیا جائے تو صرف خدا تعالیٰ کا مخفی ارادہ ہوگا۔ اس جگہ ان نادان مولویوں کی کس قدر پردہ دری ہوتی ہے جو مجھ پر اعتراض کر کے کہتے ہیں کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم پند۱۵رہ مہینے کی میعاد میں نہیں مرا بلکہ چند ماہ بعد مرا۔ اور نہیں جانتے کہ وہ وعید کی پیشگوئی تھی اور باوجود اس کے یونسؑ کی پیشگوئی کی طرح صرف قطعی نہ تھی بلکہؔ اس کے ساتھ یہ لفظ تھے کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ یعنی اُس حالت میں پندر۱۵ہ مہینے کے اندر مرے گا کہ جب اس کے دل نے حق کی طرف رجوع نہ کیا ہو۔ لیکن یہ بات عیسائیوں کی شہادت سے بھی ثابت شدہ ہے کہ اُس نے اُسی مجلس میں جب یہ پیشگوئی سُنائی گئی تھی حق کی طرف رجوع کر لیا تھا اور ڈر گیا تھا کیونکہ جب مَیں نے مباحثہ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد سا۶۰ٹھ یا ستّر ۷۰گواہوں کے روبرو جس میں سے بعض مسلمان اور بعض عیسائی تھے ڈاکٹر مارٹن کلارک کی کوٹھی پر بلند آواز سے یہ کہا کہ آپ نے اپنی فلاں کتاب میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجّال رکھا ہے ا س لئے خدا نے ارادہ کیا ہے کہ پندرہ مہینے کے اندر وہ آپ کو ہلاک کرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرو۔ تب وہ اس پیشگوئی کوسُنتے ہی ڈر گیا اور اس کا رنگ زرد ہوگیا اور اُس نے اپنی زبان باہر نکالی اور دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھے۔ اور