سو اسی کے مطابق موسم بہار میں یہ زلزلہ آیا۔ اب سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بجز خدا کے کس کی طاقت ہے کہ اس تصریح کے ساتھ پیشگوئی کر سکے۔ میرے ہاتھ میں تو زمین کے طبقات نہیں تھے کہ مَیں گیار۱۱ہ مہینے تک ان کو تھام رکھتا اور پھر ۲۵؍ فروری ۱۹۰۶ء کے بعد ایک زور کا دھکا دے کر زمین کو ہلا دیتا۔ سو اے عزیزو! جبکہ تم نے یہ دونوں زلزلے اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے تو اب تمہیں اس بات کا سمجھناسہل ہے کہ آئندہ پنج زلزلوں کی خبر بھی کوئی گپ نہیں ہے۔ اور تم یہ بھی سمجھ سکتے ہو کہ جیسا کہ یہ یقین کرنا انسانی طاقت سے باہر تھا کہ گیار۱۱ہ ماہ تک اپریل کے زلزلہ کی مانند کوئی زلزلہ نہیں آئے گا بلکہ عین بہار میں ۲۵؍ فروری ۱۹۰۶ء کے بعد آئے گا۔ ایسا ہی یہ یقین کرنا بھی انسانی طاقت سے باہر ہے کہ اب بعد اس کے ۵پانچ شدید زلزلے آئیں گے جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمکار دکھلائے گا یہاں تک کہ ان کو جو خدا کی ہستی کے قائل نہیں اقرار کی طرف کھینچے گا۔ اور پھر بعد اس کے امن ہوؔ جائے گا اور دنیا اپنی معمولی حالت پر آجائے گی۔ اور ایک مدّت تک ایسے زلزلے پھر کبھی نہیں آئیں گے۔ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی علم طبقات الارض کا اس تصریح اور تفصیل کو بتلا نہیں سکتا بلکہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا خدا ہے وہ اپنے خاص رسولوں کو یہ اسرار بتلاتا ہے نہ ہر ایک کو تا دنیا کے لوگ کفر اور انکار سے بچ جائیں اور تا وہ ایمان لائیں اورجہنم کے عذاب سے نجات پائیں۔ سو دیکھو مَیں زمین و آسمان کو گواہ کرتا ہوں کہ آج مَیں نے پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ سو ۲۸؍ فروری ۱۹۰۶ء کا زلزلہ عین بہار میں آیا جس سے آٹھ آدمی مر گئے اور انیس ۱۹ مجروح ہوئے اور صدہا مکان گر گئے۔ اور اسی زلزلہ کے بارے میں پیسہ اخبار ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۵ تیسرے کالم میں لکھا ہے کہ ۲۸؍ فروری ۱۹۰۶ء کی شب کے بھونچال میں موضع دودہ پور ضلع انبالہ تحصیل جگادھری کے سارے آدمی رات کو سوئے ہوئے مر گئے۔ صرف تین آدمی بچے اور نیرہ ضلع سہارنپور میں زلزلہ کی رات کو ایک سوکھا کنواں پانی سے بھر گیا۔ منہ