سمجھنا چاہیئے کہ اس حدیث میں مسیح موعود کو ایک ڈائن قرار دیا گیا ہے جو نظر کے ساتھ ہر ایک کا کلیجہ نکالے گا بلکہ معنے حدیث کے یہ ہیں کہ اُس کے نفحاتِ طیّبات یعنی کلمات اس کے جہاں تک زمین پر شائع ہوں گے تو چونکہ لوگ اُن کا انکار کریں گے اور تکذیب سے پیش آئیں گے اور گالیاں دیں گے اس لئے وہ انکار موجب عذاب ہو جائے گا*۔یہ حدیث بتلا رہی ہے کہ مسیح موعود کا سخت انکار ہوگا جس کی وجہ سے ملک میں مری پڑے گی اور سخت سخت زلزلے آئیں گے اور امن اُٹھ جائے گا۔ ورنہ یہ غیر معقول بات ہے کہ خواہ نخواہ نیکو کار اور نیک چلن آدمیوں پر طرح طرح کے عذاب کی قیامت آوے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے زمانوں میں بھی نادان لوگوں نے ہر ایک نبی کو منحوس قدم سمجھا ہے اور اپنی شامتِ اعمال اُن پر تھاپ دی ہے۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتاہے۔ اور اُس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے۔ اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کر دیا جائے گا جیسا کہ
صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور جہاد کو موقوف کردے گا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ جب مسیح کی روحانی توجہ سے قہری نشان ظاہر ہوں گے اور لاکھوں انسان طاعون اور زلازل وغیرہ سے مریں گے تو پھر تلوار کے ذریعہ سے کسی کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور خدا اس سے رحیم تر ہے کہ د۲و قسم کے شدید عذاب ایک ہی وقت میں کسی قوم پر نازل کرے یعنی ایک قہری نشانوں کا عذاب اور دوسرا انسانوں کے ذریعہ سے تلوار کا عذاب۔ اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ یہ د۲و قسم کے عذاب ایک وقت میں جمع نہیں ہو سکتے۔ منہ