پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھارہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھاؔ نہیں چھوڑتے۔اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہوگیا ہے*۔ جس کی تم تکذیب کررہے ہو۔ اب ہجری صدی کا بھی چوبیسو۲۴اں سال ہے بغیر قائم ہونے کسی مرسلِ الٰہی کے یہ وبال تم پر کیوں آگیا جو ہر سال تمہارے دوستوں کو تم سے جُدا کرتا اور تمہارے پیاروں کو تم سے علیحدہ کر کے داغِ جدائی تمہارے دلوں پر لگاتا ہے آخر کچھ بات تو ہے کیوں تلاش نہیں کرتے اور تم کیوں اس آیت موصوفہ بالا میں غور نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱۔ یعنی ہم کسی بستی پر غیر معمولی عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ہم اُن پر اتمام حجت کیلئے ایک رسول نہ بھیج دیں۔ اب تم خود سوچ کر دیکھ لو کہ کیا یہ غیر معمولی عذاب نہیں جو تم کئی سال سے بھگت رہے ہو۔ تم وہ مصیبتیں دیکھ رہے ہو جن کا تمہارے باپ دادوں نے نام بھی نہیں سُنا تھا اور جن کی ہزاروں برس تک اس ملک میں نظیر نہیں پائی جاتی۔ اور جس طاعون اور جس زلزلہ کو اب تم دیکھتے ہو میں اپنے کشفی عالم میں پچیس۲۵ برس سے اسے دیکھ رہا ہوں۔ اگر خدا نے مجھے یہ تمام خبریں پہلے سے نہیں دیں تو مَیں جھوٹا ہوں۔ لیکن اگر یہ خبریں پچیس۲۵ برس سے میری کتابوں میںؔ مندرج ہیں اور متواتر مَیں قبل از وقت خبرخ دیتا رہا ہوں تو تمہیں ڈرنا چاہیئے
نبی کے لفظ سے اس زمانہ کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ
اور مخاطبہ الٰہیہ حاصل کرے اور تجدید دین کے لئے مامور ہو۔ یہ نہیں کہ وہ کوئی دوسری شریعت لاوے کیونکہ شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نبی کے لفظ کا اطلاق بھی جائز نہیں جب تک اس کو امّتی بھی نہ کہا جائے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک انعام اُس نے آنحضرت ؐ کی پیروی سے پایا ہے نہ براہِ راست۔ منہ
خ انہیں سخت زلزلوں کی خبریں میری کتاب براہین احمدیہ میں آج سے پچیس برس پہلے شائع
ہوچکی ہیں۔ منہ