سچائی پر قائم ہیں یا نہیں جو ان کو دی گئی۔
اور یاد رہے کہ جب یہ ۵ پانچ زلزلے آچکیں گے اور جس قدر خدا نے تباہی کا ارادؔ ہ کیا ہے وہ پورا ہو چکے گا تب خدا کا رحم پھر جوش مارے گا اور پھر غیر معمولی اور دہشت ناک زلزلوں کا ایک مدت تک خاتمہ ہو جائے گا۔ اور طاعون بھی ملک میں سے جاتی رہے گی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ یَاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَےْسَ فِیْھَا اَحَدٌ یعنی اِس جہنّم پر جو طاعون اور زلزلوں کا جہنّم ہے ایک دن ایسا زمانہ آئے گا کہ اس جہنم میں کوئی فرد بشر بھی نہیں ہوگا۔ یعنی اس ملک میں اور جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا کہ ایک خلقِ کثیر کی موت کے بعد امن کا زمانہ بخشا گیا ایسا ہی اس جگہ بھی ہوگا۔ اور پھر اس الہام کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثم یغاث الناس ویعصرون۔ یعنی پھر لوگوں کی دُعائیں سُنی جائیں گے اور وقت پر بارشیں ہوں گی اور باغ اور کھیت بہت پھل دیں گے اور خوشی کا زمانہ آجائے گا اور غیر معمولی آفتیں دُور ہو جائیں گی۔ تا لوگ یہ خیال نہ کریں کہ خدا صرف قہار ہے رحیم نہیں ہے اور تا اس کے مسیح کو منحوس قرار نہ دیں*۔
یاد رہے کہ مسیح موعود کے وقت میں موتوں کی کثرت ضروری تھی اور زلزلوں اور طاعون کا آنا ایک مقدّر امر تھا۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ جو لکھا ہے کہ مسیح موعود کے دم سے لوگ مریں گے اور جہاں تک مسیحؑ کی نظر جائے گی اس کا قاتلانہ دم اثر کرے گا۔ پسؔ یہ نہیں
مسیح موعود کے لئے ابتدا سے یہی مقدر ہے کہ پہلے تو وہ قہاری رنگ میں ظاہر ہوگا اور جہاں تک
اس کی نظر کام کرتی ہے اس کے دم سے لوگ مریں گے یعنی وہ زمانہ جہاد اور تلوار سے لڑنے کازمانہ نہیں ہوگاصرف مسیح موعود کی رُوحانی توجہ تلوار کا کام دکھلائے گی اور قہری نشان آسمان سے نازل ہوں گے جیسے طاعون اور زلزلے وغیرہ آفات۔ تب اس کے بعد خدا کا مسیح نوع انسان کو رحم کی نظر سے دیکھے گا اور آسمان سے رحم کے آثار ظاہر ہوں گے اور عمروں میں برکت دی جائے گی اور زمین میں سے رزق کا سامان بکثرت پیدا ہوگا۔ منہ