مَیں نے تجھے تمام دنیا میں سے چُن لیااور فرماتا ہے۔ قال ربّک انہ نازلٌمن السّمآء مَا یُرْضیک۔ یعنی تیرا خدا کہتا ہے کہ آسمان سے ایسے زبردست معجزات اُتریں گے جن سے تو راضی ہو جائے گا۔ سو اُن میں سے اس ملک میں ایک طاعون اور د۲و سخت زلزلے تو آچکے جن کی پہلے سے مَیں نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر خبر دی تھی۔ مگر اب خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۵پانچ زلزلے اور آئیں گے۔ اور دنیا اُن کی غیر معمولی چمک کو دیکھے گی اور اُن پر ثابت کیا جائے گا کہ یہ خداتعالیٰ کے نشان ہیں جو اُس کے بندے مسیح موعودؑ کے لئے ظاہر ہوئے۔ افسوس اِس زمانہ کے منجم اور جوتشی اِن پیشگوئیوں میں میرا ایسا ہی مقابلہ کرتے ہیں جیسا کہ ساحروں نے موسیٰ نبی کا مقابلہ کیا تھا اور بعض نادان ملہم جو تاریکی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں وہ بلعم کی طرح میرے مقابلہ کے لئے حق کو چھوڑتے اور گمراہوں کو مدد دیتے ہیں مگر خدا فرماتا ہے کہ مَیں سب کو شرمندہ کروں گا اورکسی دوسرے کو یہ اعزاز ہرگز نہیں دوں گا۔ اِن سب کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے نجوم یا الہام سے میرا مقابلہ کریں اور اگر کسیؔ حملہ کو اب اٹھا رکھیں تو وہ نامرد ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ مَیں ان سب کو شکست دوں گا اور مَیں اس کا دشمن بن جاؤں گا جو تیرا دشمن ہے۔ اور وہ فرماتا ہے کہ اپنے اسرار کے اظہار کیلئے مَیں نے تجھے ہی برگزیدہ کیا ہے اور زمین اورآسمان تیرے ساتھ ہے جیسا کہ میرے ساتھ ہے۔اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میرا عرش۔ اِسی کے مطابق قرآن شریف میں یہ آیت ہے جو خدا کے برگزیدہ رسولوں کو غیروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اور وہ یہ ہے۔3 33 ۱؂۔یعنی کھلا کھلا غیب صرف برگزیدہ رسول کو عطا کیا جاتا ہے۔ غیر کو اس میں حصّہ نہیں۔ سو ہماری جماعت کو چاہیئے جو ٹھوکر نہ کھاویں اور ان غیروں کو جو میرے مقابل پر ہیں اور میری بیعت کرنے والوں میں داخل نہیں ہیں کچھ بھی چیز نہ سمجھیں ورنہ خدا کے غضب کے نیچے آئیں گے۔ ہر ایک بیہودہ گو جو پیشگوئی کرتا ہے خدا ایسے لوگوں سے سچے ایمانداروں کو آزماتا ہے کہ کیا وہ غیر کو وہ وقعت اور عزّت دیتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول کو دینی چاہیئے اور دیکھتا ہے کہ کیا وہ اُس