بھار اُتارنے کے لئے دوزخ میں بھی گیا تھا۔ اور وہ اپنے بندوں کو گناہوں سے نجات نہیں دے سکتا تھا جب تک آپ ان کے عوض نہ مرتا اور تین۳ دن کے لئے دوزخ میں نہ جاتا۔ اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی اور الہام پر مہر لگ گئی ہے اور اب خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ سورہ فاتحہ میں ہمیں تمام نبیوں کی متفرق نعمتوں کے وارث ٹھہراتا ہے اور اس امت کو خیر الامم قرار دیتا ہے۔ پس بلاشبہ خدا تعالیٰ کا حسن اور احسان جو سرچشمہ محبت کا ہے سب سے زیادہ اس پر ایمان لانا ہمارے حصّہ میں آگیا ہے اور مسلمانوں میں سے سخت نادان اور بدقسمت وہ لوگ ہیں جو اس کے کمال حسن اور احسان کے انکاری ہیں۔ ایک طرف تو اس کی مخلوق کو اس کی صفاتِ خاصہ میں حصّہ دار ٹھہرا کر توحید باری پر دھبّہ لگاتے* اور اُس کے حسن وحدانیّت کی چمک کو شراکتِ غیر سے * مسلمانوں کو خاص کر اہل حدیث کو توحید کا بڑا دعویٰ تھا مگر افسوس اُن پر بھی یہ مثل صادق آئی کہ ’’ مچھر چھاننا اور اونٹ نگلنا‘‘۔ کیا ایسے لوگوں کو ہم مو ّ حد کہہ سکتے ہیں۔ کہ ایک طرف تو حضرت عیسیٰؑ کو خدا تعالیٰ کی طرح وحدہٗ لاشریک سمجھتے ہیں۔ وہی ہے جو مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور وہی ہے جو کسی دن مع جسم عنصری زمین پر آئے گا اور اُسی نے پرندے پیدا کئے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کافروں نے قسمیں کھاکر بار بار سوال کیا کہ آپ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ کے دکھلایئے ہم ابھی ایمان لائیں گے ان کو جواب دیا گیاکہ 3 ۱؂۔ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عہد شکنی سے پاک ہے اور بموجب اس کے قول کے مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جا سکتا کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ 3 3۲؂۔ 3۳؂ پس کیاہم سمجھیں کہ حضرت عیسٰی ؑ کو آسمان پر پہنچانے کے وقت خدا تعالیٰ کو اپنا یہ وعدہ یاد نہ رہا یا عیسیٰ ؑ بشر نہیں تھا۔ اگرعیسیٰ ؑ مع جسم عنصری آسمان پر گیا ہے تو قرآن کے بیان کے رُو سے لازم آتا ہے کہ عیسیٰ ؑ بشر نہیں تھا۔ پھر دوسری طرف ان مدعیانِ اسلام نے دجّال کے بھی وہ صفات بیان کئے ہیں جن سے اس کا خدا ہونا لازم آتا ہے۔ یہ توحید اور یہ دعویٰ۔ افسوس! منہ