دیا گیا ہے۔ اور ہم خدا تعالیٰ کی خوبیوں کے بیان کرنے میں اُس کی جناب میں شرمندہ نہیں ہیں*۔ اور جہاں تک خوبی تصور میں آسکتی ہے ہم وہ تمام خوبیاں خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات میں مانتے ہیں۔ نہ ہم آریوں کی طرح یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی رُوح یا کسی ذرّہ کے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ اور نہ ان کی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ ایسا بخیل ہے کہ نجات ابدی کسی کو دینا نہیں چاہتا۔ اور نہ یہ کہتے ہیں کہ وہ دینے پر قادر نہیں۔ اور نہ ہم آریہ سماج والوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کا دروازہ بند ہے اور نہ ہم اُن کی طرح یہ کہتے ہیں کہ وہ ایسا سخت دل ہے کہ کسی بندہ کی توبہ قبول نہیں کرتا اور ایک گناہ کے لئے کروڑہا جونوں میں ڈالتا رہتا ہے۔ اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ توبہ قبول کرنے پر قادر نہیں اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح یہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے کہ وہ کسی زمانہ میں مربھی گیا تھا۔ اور یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار بھی ہوا اور زندان میں بھی داخل کیا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا۔ اور وہ ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ اور اس کے اور بھائی بھی تھے۔ اور نہ ہم عیسائیوں کی طرح نعوذ باللہ یہ ؔ کہتے ہیں کہ وہ تین۳ دن کے لئے گناہوں کا
* ایک عیسائی یہ بات کہہ کر کہ اس کا خدا کسی زمانہ میں تین۳ دن تک مرا رہا تھا کس درجہ اندر ہی اندر
اپنے اس قول سے ندامت اٹھاتا ہے اور کس قدر خود رُوح اُس کی اُسے ملزم کرتی ہے کہ کیاخدا بھی مرا
کرتا ہے۔ اور جو ایک مرتبہ مرچکا اس پر کیونکر بھروسہ کیا جائے کہ پھر نہیں مرے گا۔ پس ایسے خدا کی زندگی پر کوئی دلیل نہیں بلکہ کیا معلوم کہ شاید مرہی گیا ہو۔ کیونکہ اب زندوں کے اُس میں آثار نہیں پائے جاتے۔ وہ اپنے خدا خدا کرنے والوں کو کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ کوئی معجزانہ کام نہیں دکھلا سکتا۔ پس یقیناًسمجھو کہ وہ خدا مر گیا ہے اور سری نگر محلہ خان یار میں اس کی قبر ہے۔ رہے آریہ سماج
والے۔ سو ان کی رُوحوں کا تو کوئی خدا ہی نہیں۔ وہ خود بخود قدیم سے چلی آتی اور انادی ہیں۔ منہ