تاریکی کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اور پھر دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیض سے ایسا اپنے تئیں محروم جانتے ہیں کہ گویا آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ زندہ چراغ نہیں ہیں بلکہ مُردہ چراغ ہیں جن کے ذریعہ سے دوسرا چراغ روشن نہیں ہو سکتا۔ وہ اقرار رکھتے ہیں کہ موسٰی ؑ نبی زندہ چراغ تھا جس کی پیروی سے صدہا نبی چراغ ہو گئے۔ اور مسیحؑ اسی کی پیروی تیس۳۰ برس تک کر کے اور توریت کے احکام کو بجا لاکر اور موسٰی ؑ کی شریعت کا ُ جوَ ا اپنی گردن پر لے کر نبوت کے انعام سے مشرف ہوا۔ مگر ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی َ پیروی کسی کو کوئی روحانی انعام عطا نہ کر سکی بلکہ ایک طرف تو آپ حسبِ آیت 3 3 ۱؂ اولاد نرینہ سے جو ایک جسمانی یادگار تھی محروم رہے اور دوسری طرف روحانی اولاد بھی آپ کو نصیب نہ ہوئی جو آپ کے روحانی کمالات کی وارث ہوتی۔ اور خدا تعالیٰ کا یہ قول۔3۲؂ بے معنی رہا۔ ظاہر ہے کہ زبانِ عرب میں لٰکن کالفظ اِستدراک کے لئے آتا ہے یعنی جو امر حاصل نہیں ہو سکا اس کے حصول کی دوسرے پَیرایہ میں خبر دیتا ہے جس کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی نرینہ اولاد کوئی نہیں تھی مگر رُوحانی طور پر آپ کی اولاد بہت ہوگی اور آپ نبیوں کے لئے مُہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئیؔ نبوت کا کمال بجز آپ کی پیروی کی مُہر کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔ غرض اس آیت کے یہ معنے تھے جن کو اُلٹا کر نبوت کے آئندہ فیض سے انکار کر دیا گیا۔ حالانکہ اس انکار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سراسر مذمّت اور منقصت ہے۔ کیونکہ نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ دوسرے شخص کو ظلّی طور پر نبوت کے کمالات سے متمتّع کردے اور رُوحانی امور میں اس کی پوری پرورش کر کے دکھلاوے۔ اِسی پرورش کی غرض سے نبی آتے ہیں اور ماں کی طرح حق کے طالبوں کو گود میں لے کر خدا شناسی کا دودھ پلاتے ہیں۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دودھ نہیں تھا تو نعوذ باللہ آپ کی نبوت ثابت نہیں ہوسکتی۔ مگر خدا تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں آپ کا نام سراج منیر